فورٹ عباس(ڈاکٹر نذیر جوئیہ سے)دیہی مرکز صحت کھچی والامیں گروپ بند ی کا شاخسانہ کلرک نے لیڈی ڈاکٹر پر نا معلوم خواتین سے حملہ کروادیا درجنوں افراد کاہسپتال میں ہلڑ بازی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر محکمہ صحت نے موقع پر پہنچ پر احتجاجی مظاہرین سے مذکرات کرتے ہوئے ہسپتال کے انچارج اور کلرک کو تبدیل کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق سابق جنرل کونسلر حاجی منصف خاں اعوان اور اعجاز علی واہلہ نے بتایا کہ دیہی مرکز صحت کھچی والا سے حال ہی میں تبدیل ہونے والے ڈاکٹر محمد سعید نے اپنا ایک گروپ تشکیل دے رکھا ہے جو پیرا میڈکل سٹاف و دیگر ملازمین کے ذریعے ہسپتال میں آنے والے مریضوں خصوصا زچگی و دیگر آپریشن کے لئے آنے والی خواتین مریضوں کو بہلا پھسلا کر ڈاکٹر سعید کے پرائیویٹ ہسپتال بھجوا کر اپنے حصہ بقدرجُسہ وصول کرتے ہیں جس کی بنا پر ہسپتال میں گروپ بندی کے ساتھ ساتھ کشیدگی بھی پائی جاتی ہے گذشتہ سے پیوستہ روز مخالف گروپ کی خواتین نے مریضوں کی شکل میں لیڈی ڈاکٹر کے کمرہ میں جا کر بد تمیزی کرتی رہی ،لیڈی ڈاکٹر سید ہ خدیجہ کے مطابق وہ اپنے کمرہ میںمریضوں کو چیک کر رہی تھی کہ دو نامعلوم خواتین نے میرے کمرہ میں داخل ہو کر میرے سرکاری کام میں مداخلت کرتے ہوئے مجھے زدوکوب کرنا شروع کر دیا وقوعہ کی اطلاع پا کر درجنوں لوگ ہسپتال میں اکٹھے ہو گئے اس دوران چیف ایگزیکٹیو آفیسر محکمہ صحت ڈاکٹر وسیم احمد محکمہ صحت بہاولنگر بھی پہنچ گئے جن کی موجودگی میں درجنوں لوگوں نے لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ نارہ سلوک پر احتجاج کے ساتھ ساتھ احتجاج نعرے بازی بھی کی جس پر ڈاکٹر وسیم احمد نے مظاہرین سے مذکرات کرتے ہوئے ہسپتال کے انچارج ڈاکٹر محمدنعمان حنیف اور کلرک علی رضا واہلہ کو فوری طور پر تبدیل کرنے کے احکامات جاری کر دیے اور کہا کہ وقوعہ بارے محکمانہ انکوائری بھی کروائی جائے گی انکوائری میں جو بھی قصوروار ہوا اسے نشان عبرت بنایا جائے گا دریں اثنا لیڈی ڈاکٹر کی درخواست پر پولیس نے بھی کاروائی کاآغا ز کر دیا ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here