3 مئی کو دنیا بھر میں صحافت کا عالمی دن منایا گیا

3 مئی کو دنیا بھر میں صحافت کا عالمی دن منایا گیا ۔ اس دن کو منانے کا مقصد صحافت سے وابستہ افراد کی خدمات کا معترف ہونا انکی حوصلہ افزائی کرنا اور انکے حقوق کا پرچار کرنا ہے ۔ دنیا میں صحافتی تنظیموں اور ورکر نے اپنے حقوق کے لئے دھرنا دیا لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے صحافت اب سرمایہ داروں کے لئے کاروبار بن چکا ہے ۔جی میں بیسویں صدی کی بات کررہا ہوں نہ کہ اس دور کی جب اللہ کا فرشتہ جبرائیل علیہ اسلام اپنے رب کا پیغام لیکر اسکے محبوب صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم تک پہنچاتا تھا اور اللہ کے محبوب اپنے رب کا پیغام بڑی تن دہی اور مشکلات کے باوجود اسکے بندوں تک پہنچاتے اور دین کا پیغام دیتے تھے اور لوگوں کو ہر معاملے سے آگاہ رکھتے تھے ۔ دراصل صحافت بھی آگاہ رکھنے ، پیغام پہنچانے اور با خبر رکھنے کا نام ہے کسی پیغام کو کسی نئی بات ، معلومات کو پوری ایمانداری کیساتھ عوام تک پہنچانا ہے تاکہ لوگوں کو آگاہ رکھا جاسکے ۔صرف صحافی اکیلا ہی اِس زمرے میں نہیں آتا بلکہ اسکے ساتھ اور اس سے جڑے تمام افراد جن میں کیمرہ مین، ایڈیٹر، انجینئر، ڈرائیور، سب ایڈیٹر، ڈیسک ٹیم اور ہر وہ فرد جو خبر کو عوام تک پہنچانے کے لئے کسی ادارے کیساتھ جڑا ہوا ہے اور اپنا کردار ادا کررہا ہے اُن سب کو صحافت کے عالمی دن کے موقع پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں.یہ بات زیادہقابل فہم ہے کہ ہر صحافی خبر کی تلاش اور اسے عوام تک پہنچانے میں کس قدر مشکلات کا سامنا کرتا ہے۔ بڑے شہروں میں بیٹھے صحافیوں نے کبھی علاقائی صحافیوں کے حق میں نہ آواز اٹھائی نہ احتجاج کیا سب سے زیادہ مشکلات چھوٹے ، دور دراز اور پسماندہ علاقے کے صحافیوں کو ہوتی ہیں ۔ کسی وڈیرے ، جاگیردار ، وزیر ،ممبر پارلیمان ، سرکاری آفیسر یا کسی بااثر شخص کے خلاف لب کشائی کرلے تو اسکی سزا اسے یا تو موت کی صورت میں ملتی ہے یا پھر جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے ۔ وسائل اور تنخواہ سے محروم صحافی اپنی رہی سہی زندگی جیل میں گزارتا ہے یا مر جاتا ہے اور اسکے بچے یتیمی کی حالت میں گزربسر کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور یہ سب وہ اپنے ملک وقوم کو آگاہ رکھنے ،ملکی وسائل کا غلط استعمال کرنے والوں اور کرپشن زدہ افراد کی حوصلہ شکنی کے لئے کررہا ہوتا ہے ۔ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ علاقائی صحافی بغیر کسی تنخواہ کے کام کرے ، خود بھی کمائے اور ادارے کو بھی ماہانہ دے چاہے وہ رقم جائز طریقے سے کمائے یا ناجائز طریقے سے مقصد صرف پیسے کا حصول ہے۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ان پڑھ اور انگوٹھا چھاپ صحافی جو خود کو بابائے صحافت کہلواتے ہوئے شرم محسوس نہیں کرتے اور چند ٹکوں کے عوض صحافی بن کر پڑھے لکھے صحافیوں کے لئے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں ۔ اب تو خود کو صحافی بتاتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی ہے ایک طرف بی اے پاس اور دوسری طرف انگوٹھا چھاپ پریس کانفرنس میں برابر بیٹھا ہو تو یقینا زیادتی کے مترادف ہے ۔ صرف صحافی ہی ایسا شخص ہے جس کے لئے کوئی رولز متعین نہیں ہیں کوئی بھی ان پڑھ ، کریمینل اور شوقین شخص چند ہزار اور چند اخبار لگوا کر صحافی بن جاتا ہے بھلا اسے صحافت کی الف ب کا بھی نہ پتہ ہو ۔ایسے افراد نے صحافت اور صحافیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے میرے ورکنگ کلاس صحافیوں سے گزارش ہے کہ ایسے افراد کی حوصلہ شکنی ضرور کریں.
دوسری جانب اگر بات کی جائے پروفیشنل اور ذمے داران صحافتی اداروں کی ان میں کام کرنے والے افراد کی تو میں سلیوٹ پیش کرتا ہوں ایسے اداروں اور افراد کو انتہائی ذمے داری سے سچ اور ذمے داریاں عوام تک پہنچا اور نبھا رہے ہیں ۔یوم صحافت دراصل انہی لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن ہے ۔ پاکستان صحافتی سرگرمیاں آزادانہ طریقے سے ادا کرنے والے ممالک کی فہرست میں 139 ویں نمبر پر ہے ، پا کستان کا شمار صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے جہاں ہر سال چار، پانچ صحافیوں کو سچ دیکھانے اور بولنے کیوجہ سے شہید کردیا جاتا ہے اور جب صحافی شہید ہوتا ہے تو حکومتی ایوانوں کی کھلی کھڑکیاں بھی بند کر دی جاتی ہیں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here