ہڈیوں کے عالمی دن کی جگہ جنگی متاثرین کی ٹوٹی ہڈیوں کے عالمی دن کو منانا چاہیے

ہڈیوں کے عالمی دن کی جگہ جنگی متاثرین کی ٹوٹی ہڈیوں کے عالمی دن
تحریر وسیم کبریا
گزشتہ روز ہڈیوں کا دنیا سمیت پاکستان میں بھی عالمی دن منایا گیا اس دن کا مقصد بچوں میں‌پیدائشی نقائص جیسے ہڈیوں کاٹیڑھا پن،ہڈیوں کی ٹی بی اور ہڈیوں کی کمزوری کا بروقت علاج کروانے کےلئے شعور اجاگر کرنا تھا اس کے لئے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کسی نی کسی انداز میں‌منایا ہوگا کسی نے بند کمرے میں‌تو کسی نے ریلی نکال کر تو احتجاج کرکے منایا ہو گا مگر کسی ن بھی یہ ریلی نہیں‌نکالی ہوگی کہ اگر موٹر سائیکل پر ون ویلنگ کرو گے اور نتیجے کے طور پر ہڈی تو ٹوٹے گی ہی اس کے لئے کیا کرنا ہوگا اور بلا وجہ لڑائی کرنے کا من کر رہا ہوگا تو اس کےلئے یہ بھی سوچ رکھیں‌کہ مدمقابل سیر پر سوا سیر ہو سکتا ہے مدمقابل ہڈی نہ ٹوٹی تو اپنی ضرور ٹوٹ سکتی ہےاور کسی نے بھی یہ دن نہیں‌منایا ہو گا کہ ہڈی میں‌پائی جانے والی مروثی بیماری کے پیچھے کیا وجوہات کرفرما ہے کیا ہماری غذا متوازن ہے کیا ہماری غذا میں‌وہ تمام صحت مند اجزاموجود ہیں‌ .ہڈیوں کے عالمی دن پر یہ بھی اعادا کرنا چا ہیے کہ اس وقت جن ملکوں‌میں‌ڈکٹیٹر شپ کا غلبہ ہے وہاں جو بچوں‌،بوڑھوں،عورتوں‌پر ظلم ڈھایا جا رہاہے اس میں‌اپاہج ہونے والوں کےلئے چند الفاظ ہی بول کر اظہار یکجہتی کر لیتے .ہڈیاں جو جنگوں میں‌ٹوٹتی ہیں‌ان کے حوالے سے ایک اور جنگی متاثرین کی ٹوٹی ہڈیوں کے عالمی دن کوبھی منانا چاہیے یا پھر اس فرسودہ عالمی دن کا مقصد فوت ہوتا ہوا نظر آئے گا
تحریر وسیم کبریا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here