کسی ایک کا ساتھ دینے سے پہلے یاد رکھیے …
نہ تو حریم شاہ پاکستانی عورتوں کی نمائندہ ہے اور نہ عبدالقوی مردوں یا مفتیوں کا … دونوں ہی اپنی اپنی صنف پر دھبہ ہیں ..
ایک گھٹیا جب دوسرے گھٹیا کا گریبان پکڑ لے تو سمجھ جائیے کہ اس سے بھی زیادہ گھٹیا پن ان کے دامن پر تھا ..
یہ دونوں شہرت و ہوس کے پجاری اور نفسیاتی مریض ہیں .. “تھپڑ “تماش بین اکٹھے کرنے کا ایک Stunt تھا، جس میں حریم کامیاب رہی ..
شاید وہ وقت دور نہیں جب یہ معاشرہ سینکڑوں کی تعداد میں حریمائیں پیدا کرے اور وہ کسی کو بھی تھپڑ رسید کرکے راتوں رات رول ماڈل بن جائیں اور عبدالقوی ہر عالم اور مفتی سے نفرت کی علامت بن کر ابھرے ..😐
یہ ایک تھپڑ نہیں تھا دو سیکنڈ کی اس وڈیو میں مفتیان اور علما سے بےزاری کی بنیاد رکھی گئی ہے ..
اور یہ دونوں اس مکروہ ڈرامے کے بنیادی کردار ہیں ..

غلام حسین ممرا بیورچیف اپنی بات نیوز

Leave a Reply