کراچی یونیورسٹی: پروفیسر کی ہراسانی سے تنگ آ کرپی ایچ ڈی کی طالبہ نے خود کشی کرلی

ذہنی تناؤ، گھریلو مسائل، جنسی ہراسانی ایسے مسائل ہیں جن سے تنگ آ کر آج کل کئی لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں مگر کیا ایسے حالات میں کی گئی خود کشی کو خود کشی ہی کہا جائے گا؟

حالانکہ ان حالات کو پیدا کرنے والے کو قاتل کہا جانا چاہیے اور ایسے وقوعے کو قتل تصور کیا جانا چاہیے مگر ہماری سوچ اور اقدار قانون سے بندھی ہیں جس کے مطابق کسی بھی صورتحال میں کی جانے والی خودکشی ، خود کشی ہی کہلائے گی مگر ایسا قدم اٹھانے والے نے اگر جیتے جی ذمہ دار کا تعین کر دیا ہو یا پریشانی کی وجہ حلقہ احباب میں کی ہو تو کیا کیا جا سکتا ہے۔

جامعہ کراچی کے ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ریسرچ کی ایک طالبہ نادیہ اشرف نے اپنے پی ایچ ڈی سپروائزر ڈاکٹر اقبال چودھری کے ہراسانی سے تنگ آکر خود کشی کرلی، اس واقعے کے بعد ڈاکٹر پنجوانی سنٹر میں طالب علموں پر خوف و ہراس طاری ہو گیا ہے،

ملک کے اعلیٰ اختیاری اداروں کو اس واقعے کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے۔ تاکہ یہ جانا جا سکے کہ کیا اسباب تھے کہ نادیہ اشرف ایک لائق محقق ہونے کے باوجود پچھلے 15 سالوں میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل نہیں کرپائیں۔ کیا اسباب تھے کہ نادیہ اشرف اپنے قریبی دوستوں سے یہ کہتی تھی کہ

یہ وہ کلمات ہیں جو نادیہ اشرف نے خودکشی کرنے سے پہلے اپنے قریبی حلقے میں ادا کیے ہیں۔ نادیہ اشرف کے قریبی حلقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر اقبال چودھری نے نادیہ کو مزید تنگ کرنے کے لیے اس پر اپنی چہیتی فیکلٹی ڈاکٹر عطیہ الوہاب کو بھی مسلط کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھی۔

نادیہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ اس نے جب کسی دوسری ریسرچ آرگنائزیشن میں نوکری اختیار کی تو وہاں بھی اقبال چودھری نے نادیہ اشرف کی نوکری ختم کروانے کی کوشش کی۔

نادیہ اشرف نے دوبارہ پنجوانی سنٹر جوائن کیا پی ایچ ڈی میں ایکسٹینشن لے کر اپنا مکالہ جمع کرایا، مگر اقبال چودھری نے اسے مزید تنگ کیا اور اس سے کہا کہ وہ 6 مہینے کا دوبارہ ایکسٹینشن لے، مجبورنادیہ اشرف نے دوبارہ ایکسٹینشن لی مگر نادیہ اشرف میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ انٹرنیشنل سنٹر فار کیمیکل اینڈ بائیو لوجیکل سائنسز جامعہ کراچی پر 17 سالوں سے مسلط ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال چودھری سے مقابلہ کر سکے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی والدہ کے ساتھ تنہا رہنے والی لاچار لڑکی نادیہ اشرف نے موت کو گلے لگا لیا۔

ڈاکٹر اقبال چودھری ان الزامات کی تصدیق نہیں کرتے تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ ہونہار طالبہ جو کینسر جیسے موضی مرض پر ریسرچ کررہی تھی وہ خود کشی کیوں کرے گی ؟ اور 20برس سے زائد تعلیم حاصل کر لینے کے بعد اب اختتام پر آکر کیوں خود کشی کرے گی ؟

جامعہ جس طالبہ کو فرانس میں اعلیٰ ریسرچ کے لئے خود بھیجتی ہے پھر اس کو 15 سال تک پی ایچ ڈی کرنے میں کوئی کوئی رکاوٹ رہی ؟ اگر یہ طالبہ ڈاکٹر اقبال کو اپنی پریشانیاں بتاتی رہی ہے تو والدہ کو اکیلا چھوڑ کر ایک پڑھی لکھی طالبہ نے خود کشی کیوں کی ؟اس پر تحقیقات ہونی چاہییں۔

نادیہ اشرف کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی جس میں ڈاکٹر اقبال چودھری کو واقعہ کا ذمہ دار کہا جا رہا ہے اور لوگ انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک صارف مبشر احمد نے لکھا کہ ہمارے معاشرے میں رونما ہونے والا کا یہ ایک اور شرمناک واقعہ ہے ، اس فعل سے خواتین اور ان کے والدین کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے لکھا کہ میں جانتا ہوں کہ ہمارے نظام عدل میں مجرموں کو سزا دینے میں کافی وقت لگتا ہے ، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اور بھی حوصلہ شکنی کی بات ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here