ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی ملتان یا میٹھے آموں کی قاتل کالونی ملتان کے ایک عام شہری کا آواز

DHA
ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی ملتان
کچھ لوگ اس کو ملتان کی پہچان کہہ رہے ہیں ہیں لیکن ان لوگوں کے لیے یہ کسی عذاب سے کم نہیں ہیں جو اس کی زد میں آئے ہیں یہ کالونی اس علاقے کے اندر بنائی جارہی ہے جسے ایشیا کے اندر بہترین آم پیدا کرنے والا علاقہ سمجھا جاتا ہے اس علاقے کے اندر تقریبا پانچ سو سال سے لوگ آباد ہیں ان کی ایک ثقافت اور تہذیب ہے میٹھے پانی اور آموں کی وجہ سے مشہور یہ علاقہ کسی جنت سے کم نہیں ایک ریسرچ کے مطابق یہ وہ علاقہ ہے جہاں ایشیا کا بہترین آم پایا جاتا ہے ماحولیاتی آلودگی کے ادارے نے خبردار بھی کیا ہےکہ آئندہ بیس سال کے اندر پاکستان ان ممالک میں شامل ہوجائے گا جہاں درخت کم ہونے کی وجہ سے انسانوں اور جانوروں کے لیے درجہ حرارت خطرناک حد کو پہنچ جائے گا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان کے اندر نئے درختوں کے اوپر کام کیا جاتا تھا لیکن مزے کی بات یہ ہے ہے کہ اس علاقے کے اندر موجود آم کے باغوں کو بلڈوز کردیا گیا ہے اور جس نے بھی ان کو اپنی زمین اور آموں کے باغ دینے سے انکار کیا اس کے مخصوص علاقے کو بانڈری وال کے ذریعے بند کر کے اسے بنیادی حقوق سے بھی محروم کردیا جاتا ہے جھوٹی ایف آئی آر میں پھنسا کر رقبہ خرید لیا جاتا ہے یہ وہ علاقہ ہے جس کا میٹھا ترین پانی ہے اور تقریبا زلزلے کے چانس زیرو فیصد ہیں اس علاقے کے اندر سیلاب کے بھی تقریبا زیرو فیصد امکانات ہوتے ہیں
جب آپ کا ایریا ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے کے نقشے میں آجاتا ہے اس کے بعد آپ اپنے علاقے میں موجود کسی بھی چیز کو فروخت بھی نہیں کرسکتے اور نہ ہی کنسٹرکشن کر سکتے ہیں
سپریم کورٹ آف پاکستان سے لے کر کر نام نہاد صحافی تماشائی بنے ہوئے ہیں خدا کے لئے اس تہذیب اور جنت کو بچائے
دانیال ہراج ایک عام شہری

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here