پنجاب حکومت کی یونیورسٹی آف دی پنجاب گوجرانوالہ کیمپس سے چھیڑخانی!

عمرفاروق

میں اصل مسئلے کی جانب بعد میں آتا ہوں آپ پہلے “پنجاب یونیورسٹی” کی تاریخ پر ایک نظر دوڑالیجئے تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ یہ کس قدر خطرناک اور بہیودہ فیصلہ ہے.
پنجاب یونیورسٹی تاریخی اعتبار سے پاکستان کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، اسے اکتوبر 1882 میں برطانوی حکومت نے قائم کیا، ڈاکٹر گوٹلیب ولیہم لیٹنر اس یونیورسٹی کے بانیان میں شامل تھے، یہ بڈاپیسٹ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے اور 50 سے زائد زبانیں جانتے تھے جبکہ پروفیسر اے سی وولر جو 1928-1936 کے عرصہ کے دوران پنجاب یونیورسٹی کے نائب چانسلر رہے انہوں نے 19 صدی کی ابتدائی دہائیوں کے دوران اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، پروفیسر صاحب کا مجسمہ آج بھی یونیورسٹی کے علامہ اقبال کیمپس کے سامنے موجود ہے اسی طرح پروفیسر آرتھر کامپٹن جنہیں “کامپٹن افیکٹ” دریافت کرنے پر 1927 میں نوبل پرائز سے نوازا گیا تھا وہ بھی پنجاب یونیورسٹی اور اس سے وابستہ کیمپس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں لیکچرر ہوا کرتے تھے، پنجاب یونیورسٹی اس زمانے میں پنجاب کی واحد یونیورسٹی تھی جس نے آزادی تک پورے خطے کی تعلیمی ضروریات کو پورا کیا اور اس سے مستفید ہونے والوں میں “علامہ اقبال” تک شامل تھے لیکن آپ پنجاب حکومت کے فیصلوں کو 21 توپوں کی سلامی پیش کریں جو گوجرانوالہ کی عوام اور یہاں کے نوجوانوں کو اقبال کی یونیورسٹی سے محروم کرنا چاہتی ہے، کیو ایس یونیورسٹیز کے مطابق پنجاب یونیورسٹی 39 درجے ترقی کے ساتھ ایشین یونیورسٹیز میں 193 نمبر پر ہے، یہ یونیورسٹی 139 سالوں سے اس ملک کے لوگوں کو “ایجوکیٹ” کررہی ہے، یہ تاریخی اعتبار سے بھی ہمارا قومی اثاثہ ہے، اس یونیورسٹی نے آپ کو علامہ اقبال، فوزیہ عباس، ابن انشاء، غلام احمد، اشفاق احمد، چودھری رحمت علی، جگن ناتھ، جیسے لوگ دیے، عارف علوی، سرتاج عزیز، یوسف رضا گیلانی، جاوید ہاشمی، میاء محمد منشاء اور حامد میر بھی اسی یونیورسٹی کے طلباء میں شامل ہیں.
آپ خود سوچیں ایک ایسی یونیورسٹی جو پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان ہو، جس میں اقبال جیسے لوگوں کو پڑھنے کا موقع ملا ہوں، جس یونیورسٹی کے طلباء کبھی اشفاق احمد، کبھی سرتاج عزیز اور کبھی صدر مملکت عارف علوی کی شکل میں اندروں ملک اور باہر کی دنیا میں اپنی خدمات فراہم کررہے ہوں کیا اس یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنا اعزار کی بات نہ ہوگی؟ اور اس چیز میں بھی کوئی شک نہیں کہ “ہمارے نوجوان پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کو فوقیت دیتے ہیں”، یہ اپنے لئے اعزار کی بات سمجھتے ہیں تاہم آپ پنجاب گورنمنٹ کا کمال دیکھیں یہ گوجرانوالہ کے نوجوانوں کو “پنجاب یونیورسٹی کے گوجرنوالہ کیمپس” سے محروم کرنا چاہتی ہے، یہ لوگ “پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کیمپس” کا نام تبدیل کرکہ “دی یونیورسٹی آف گوجرانوالہ” رکھنا چاہتے ہیں اور مجھے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جب آپ پنجاب بھر میں نئی یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہیں تو پھر پرانی یونیورسٹیوں سے چھیڑخانی کرنے کی کیا تک بنتی ہے؟ آج سے چند ماہ پہلے پنجاب حکومت نے سال 2021-22 کا تیسرا بجٹ پیش کیا تھا جس کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے کے مختلف شہروں اور اضلاع میں 15 نئی یونیورسٹیاں قائم کرنے کے لیے 2.30 ارب روپے بجٹ مختص کیے تھے جن سے پاکپتن، تونسہ، سیالکوٹ، حافظ آباد، اٹک، بہاولنگر، لیہ، مظفر گڑھ، راجن پور، قصور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، کمالیہ اور بھکر سمیت چھوٹے شہروں میں یونیورسٹیاں قائم کی جانی تھیں، اس بجٹ کے دوران پنجاب حکومت کی جانب سے یونیورسٹیوں کے نام بھی بتائے گئے تھے جن میں یونیورسٹی آف تونسہ، بابا فرید یونیورسٹی پاکپتن، انجینئرنگ یونیورسٹی سیالکوٹ، یونیورسٹی حافظ آباد، یونیورسٹی اٹک، یونیورسٹی بہاولنگر، یونیورسٹی لیہ، یونیورسٹی مظفر گڑھ، انڈس یونیورسٹی راجن پور، یونیورسٹی آف قصور، وارث شاہ یونیورسٹی شیخوپورہ، یونیورسٹی گوجرانوالہ، کمالیہ یونیورسٹی اور تھل یونیورسٹی بھکر شامل تھیں اسی طرح وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار بھی گوجرانوالہ وزٹ کے موقع پر گوجرانوالہ کی عوام کو نئی یونیورسٹی کے قیام کا یقین دلاچکے تھے لیکن آج جب یونیورسٹی بنانے کا ٹائم آیا تو آپ نے یونیورسٹی تعمیر کرنے کے بجائے “پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کیمپس” کو “دی یونیورسٹی آف گوجرانوالہ” میں تبدیل کردینا کافی سمجھا!تعلیمی حلقے تو پہلے ہی آپ کے اس فیصلے سے ناخوش تھے، وہ حکومت سے بار بار اس چیز کا مطالبہ کررہے تھے کہ آپ نئی یونیورسٹیاں بنانے کے بجائے پرانی یونیورسٹیوں پر توجہ دیں، آپ ان کی استعداد کاری میں اضافہ کریں، آپ ان کے ماحول اور سسٹم کو بہتر بنانے پر توجہ دیں لیکن آپ لوگوں نے الٹا انہیں یونیورسٹیوں کو برباد کرنے کی ٹھان لی! کیا پنجاب یونیورسٹی آف گوجرانوالہ کیمپس سے چھیڑ خانی کرنے سے پہلے آپ کے ذہن میں اس چیز کا ذرا سا بھی خیال نہیں آیا کہ اس کے مضمرات کیا ہوں گے؟ گوجرانوالہ کی عوام بالخصوص یہاں کے نواجوانوں کا کتنا نقصان ہوگا؟ کیا” دی یونیورسٹی آف گوجرانوالہ” کی ڈگری کی حیثیت اتنی ہوگی جتنی”پنجاب یونیورسٹی” کی ہے؟ پنجاب یونیورسٹی پوری دنیا میں پاکستان کا “تعلیمی سمبل” ہے اور کیا آپ گوجرانوالہ کی عوام کو اس سے محروم کرکہ ان کے ساتھ زیادتی نہیں کررہے؟ اور دنیا بھر میں “دی یونیورسٹی آف گوجرانوالہ” کی کیا حیثیت ہوگی؟ وہ لاکھوں لوگ جو پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کیمپس سے ڈگریاں لیکر پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں وہ کسی کو اپنی ڈگری دکھاتے وقت کیا بتائیں گے؟ پنجاب حکومت اس چیز کو تسلیم کرے کہ اس نے پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کیمپس سے چھیڑ خانی کرنے کا فیصلہ کرکہ زیادتی کی ہے؟ کیا نئی یونیورسٹیاں بنانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ پرانی یونیورسٹی کے نام بدل کر ان کا نیا نام رکھ دیں؟ خدا کے لئے آپ اگر گوجرانوالہ کے لوگوں کو نئی یونیورسٹی بنا کر نہیں دے سکتے تو کم ازکم جو یونیورسٹیاں موجود ہیں ان سے تو چھیڑ خانہ نہ کریں، آپ یہاں کے لوگوں کو ملک کی قدیم مادر علمی سے تو محروم نہ کریں، میری پرائم مسٹر عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار صاحب سے خصوصی درخواست ہیں کہ آپ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کریں، اگر گوجرانوالہ میں نئی یونیورسٹی نہیں بن سکتی تو آپ نہ بنائیں لیکن آپ پنجاب یونیورسٹی گوجرانوالہ کیمپس کی موجودہ حالت سے پلیز چھیڑ خانی نہ کریں، یہ آپ کا اس شہر اور یہاں کے نوجوانوں پر خصوصی احسان ہوگا.

Leave a Reply