وہاڑی پولیس گردی کا شکار فوجی شہید کی بیوہ اور بیٹیوں کو وزیراعظم، وزیراعلیٰ، IG پنجاب، RPO ملتان اور DPO وہاڑی پولیس کے کرپٹ نظام کی وجہ سے انصاف دینے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں

وہاڑی پولیس گردی کا شکار فوجی شہید کی بیوہ اور بیٹیوں کو وزیراعظم، وزیراعلیٰ، IG پنجاب، RPO ملتان اور DPO وہاڑی پولیس کے کرپٹ نظام کی وجہ سے انصاف دینے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں
گگومنڈی کی شہید فوجی کی بیوہ اور بیٹیوں پر si شاہد اسحق گجر sho گگو کا مقامی زمیندار کے غنڈوں کے ساتھ ٹارچر سیل میں ظلم و بربریت کی داستان جس سے انسانیت بھی شرماجائے، لانس نائیک نور حسن شہید کی بیوہ بشیراں بی بی اوراس کی 2 جوان بیٹیوں کو اپنے نجی ٹارچرسیل میں برہنہ کرکے تشددکرنے والا SI شاہداسحاق تھانہ گگو SHO بحال ہوکرایس ایچ او تھانہ سٹی وہاڑی تعینات۔ایس ایچ او شاہداسحاق نے277۔ای بی کے فوجی لانس نائیک نور حسن کی بیوہ بشیراں بی بی اوراس کی دوبیٹیوں کومقامی بااثرزمیندارکے سامنے برہنہ کرکے تین روزتک وحشیانہ تشددکانشانہ بنایاتھا۔بیوہ کے رشتہ دارپرگائے زمیندارکی گائے چوری کاالزام تھا۔زمیندارکوخوش کرنے کی خاطرایس ایچ اوشاہداسحاق نے بیوہ کے گھرکی دیواریں تک گرادی تھیں۔بیوہ کے لاکھوں روپے مالیتی مویشی کھول کرزمیندارکودے دئیے۔زمینداراورایس ایچ اوشاہداسحاق نے ملی بھگت سے بیوہ کے بیٹوں پرتھانہ احمدیار،تھانہ قبولہ اورتھانہ گگومنڈی میں متعددجھوٹے مقدمات درج کروادئیے۔علی محمدکی چھ ماہ بعدضمانت پررہائی جبکہ دوسرابیٹا ولی محمدایک سال سے جیل میں ناکردہ جرم میں بندہے۔ خبروں کی اشاعت پراس وقت کے ڈی پی او نے انکوائری میں جرم ثابت ہونے پر اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیاتھا اور si شاہداسحاق کومعطل کر دیا تھا۔ لیکن اس نے اپنے پیٹی بند بھائیوں کا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے دوبارہ بحال ہوا اور اب یہ ایس ایچ اوتھانہ سٹی وہاڑی تعینات ہے۔ اور فوجی کی بیوہ اور بیٹیاں انصاف کے لئے ایک سال سے پولیس افسران کے دفتروں کے چکرلگالگاکر بے عزت ہو رہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق تقریباًایک سال قبل نواحی گاؤں 277۔ای بی کی رہائشی بشیراں بی بی بیوہ فوجی نورحسن جوآرمی میں لانس نائیک تھا کے گھرایس ایچ اوتھانہ گگومنڈی siشاہداسحاق پولیس کی بھاری نفری اورمقامی زمینداراوراس کے درجنوں ساتھیوں کے ساتھ چادراورچاردیواری کاتقدس پامال کرتے ہوئے داخل ہوگیاتھااوربشیراں بی بی سے اس کے رشتہ دارعباس کے متعلق پوچھاجس پربیوہ نے بتایاکہ عباس سے ہماراکوئی تعلق نہ ہے۔اس پرشاہداسحاق ایس ایچ اوگھرسے پسٹل تلاش کرنے کے بہانے بشیراں بی بی اوراس کے دوجوان بیٹیوں کوزمیندارودیگرلوگوں کے سامنے ہی برہنہ کرکے تلاشی لینے لگا۔پسٹل کی عدم برآمدگی پرایس ایچ او بیوہ،اس کی دوبیٹیوں اوربیٹوں علی محمد،ولی محمدکوگرفتارکرکے تھانہ گگومندی لے گیاجہاں اپنے بنائے گئے ٹارچرسیل میں زمیندار کوخوش کرنے کی خاطرماں اوراس کی دونوں بیٹیوں اوربیٹوں کوبرہنہ کرکے تین روزتک وحشیانہ تشددکانشانہ بنایاگیا۔ایس ایچ اوشاہداسحاق نے زمیندارکومزیدخوش کرنے کی خاطربیوہ کے گھرکی دیواریں گراکراس کے لاکھوں روپے مالیتی مویشی کھول کراس کے حوالے کردئیے جوتاحال اس کے قبضہ میں ہے۔تین روزبعد معززین علاقہ کی مداخلت پربیوہ بشیراں بی بی اوراس کی دونوں بیٹیوں کوتورہائی مل گئی لیکن اس کے دونوں بیٹوں کے خلاف زمیندارنے پولیس سے سازبازہوکرتھانہ قبولہ،تھانہ گگومنڈی اورتھانہ احمدیارمیں متعددجھوٹے مقدمات درج کروادئیے۔بیوہ کے بیٹے علی محمدکوتوچھ ماہ بعد ضمانت پررہائی مل گئی لیکن دوسرابیٹاولی محمدایک سال سے جیل میں ناکردہ جرم میں بندہیں جبکہ ان کی ماں اپنے بے گناہ بیٹے کی رہائی کیلئے پولیس افسران کے دفتروں کے چکرلگالگاکررل گئی ہے۔اس بابت خبروں کی اشاعت پراس وقت کے ڈی پی اونے سخت نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ اوشاہداسحاق سمیت دیگراہلکاروں کومعطل کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیاتھا۔پتہ چلاہے کہ شاہداسحاق انتہائی بااثرہے جواپنااثرورسوخ استعمال کرکے بحال ہوکر دوبارہ ایس ایچ اوسٹی وہاڑی تعینات ہوگیاہے۔متاثرہ بیوہ بشیراں بی بی نے وزیراعلیٰ پنجاب،آئی جی پولیس اورآرپی اوملتان سے فوری انصاف دلائے جانے کی اپیل کی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here