وہاڑی پولیس کی اعلیٰ کارکردگی پر سلیوٹ. پیٹی بھائیوں کو کیسے پروٹیکٹ کرتے ہیں‌

پولیس کی اعلیٰ کارکردگی پر سلیوٹ
چند روزقبل تھانہ لڈن کی حدود میں جنسی بلیک میلنگ مافیا کی جانب سے پٹرولنگ پولیس اہکاروں پر اجتماعی زیادتی کے الزام کے کیس میں تفصیلی تفتیش کے بعد کئی انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ڈی پی او وہاڑی اختر فاروق کی سربراہی میں مکمل کی گئی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مسماۃ کرن شبیر نے اپنے بلیک میلر گروہ جس میں حاصل پور اور وہاڑی کے نو وارد صحافی شامل ہیں کے ورغلانے پر بلیک میلنگ کی نیت سے خود کو کنواری ظاہر کرکے اجتماعی زیادتی کا ڈرامہ رچایا جسکا میڈیکل ڈی ایچ کیو وہاڑی سے کرایا گیا تو ایم ایل سی نمبر75/19کے صفحہ نمبر5کالم نمبر 2 کے مطابق سردست ریپ سے متعلق کوئی شواہد موجود نہ پائے گئے ہیں اور مبینہ طور پر خاتون ماضی میں بھی ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے دوران تفتیش یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیادتی کا الزام لگانے والی کرن شبیر کا بھائی شکیل ولد شبیرمقدمہ نمبر531/06بجرم9اے سی این ایس اے, 748/10, 717/13, 724/13, 253/18 اور132/19تھانہ سٹی اے ڈویژن چشتیاں میں گرفتار ہو کر چالان ہو چکا ہے. اسی طرح کرن شبیر کی والدہ آمنہ شبیر مقدمہ نمبر571/10 اور134/19تھانہ سٹی اے ڈویژن چشتیاں میں گرفتار ہو کر چالان ہو چکی ہے جبکہ مدعیہ مقدمہ کا دوسرا بھائی محمد وکیل مقدمہ نمبر249/18میں چالان ہو چکا ہے. تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کے کہ مدعیہ کی فیملی متعدد مقدمات میں گرفتار ہو کر چالان ہو چکی ہے اس طرح ڈی پی او وہاڑی بروقت مداخلت اور غیر جانبدارانہ تفتیش سے پٹرولنگ پولیس اہلکار بلیک میل ہو کر لاکھوں روپے کے نقصان اور محکمانہ کاروائی سے بچ گئے کیونکہ وہاڑی شہر اور نواح میں ایسے مختلف بلیک میلرز گروہ عرصہ دراز سے متحرک ہیں ذرائع کے مطابق درجنوں لوگ اپنی عزت خاک میں مل جانے کے خوف سے بلیک میل ہو کر لاکھوں روپے سے ہاتھ دھو چکے ہیں اب جب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس جیسے کئی گروہ ایسے مذموم دھندے میں مصروف ہیں معصوم شہریوں کو اپنے دام میں پھنسا کر بلیک میلنگ کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں پولیس ترجمان نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ گینک کے خلاف حسب ضابطہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق مقامی پولیس اور خفیہ اداروں کے پاس ایسے بلیک میلرز گینگز اور ان کے سرپرستوں کے حوالے سے مکمل ڈیٹا موجود ہے لیکن کوئی آفیسر کاروائی کرنے کے لیے تیار نہیں چونکہ اب نئے دبنگ ڈی پی او نے پٹرولنگ اہلکاروں کو حقائق اکٹھے کرکے میرٹ پر بلیک میلنگ سے بچا لیا ہے تو لٹنے والے عام شہری بھی انصاف کے طلبگار ہیں عوامی و سماجی حلقوں نے معاشرہ میں ایسے عناصر کی طرف سے پھیلائی جانے والی بے حیائی و بےراہ روی کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرکے قانون کی گرفت میں لانے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہےاور اس پر پولیس کو چاہیے کہ جیسےایف ایہ آر میں‌شامل نمبر پر پٹرولنگ پولیس پر کیش منگوانے کا الزام لگایا گیا ہے اس سے بھی پٹرولنگ پولیس پر ایک نقطہ اٹھتا ہے اس کو بھی کلیر کرنا چاہیے ٹھیک ہے ابھی اس واقعہ میں شامل گینگ میں‌صحافی حضرات ہیں‌وہ اور مقامی صحافی زرا احتیاط سے کیونکہ یہ ایک ایسی خبر ہے جس میں‌وہ صحافی جو پولیس کو کھٹک رہے ہیں‌ان کے خلاف مقدمات کا ایک نیا پنڈورا باکس کھولا جائے گا وہ صحافی جو کوئی بھی سچ پر مبنی خبر لگائیں گے جس میں‌کسی پولیس والے پر حرف آنے کے قوی خدشات ہونگے تو پولیس ان کو اٹھا کر اندر کر دے گی وہ صحافی جو پولیس کو دیوتا بنا کر پیش کر رہے ہیں‌وہ بھی سن لیں‌کہ ایک نیا واقعہ بھی سامنے آیا جس میں‌تھانہ کرم پور کے ملک اظہر اے ایس آئی نے نیاز ولد پناہ محمد کی بیگم کلثوم سے زیادتی کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں‌عوام کے ہتھے چڑھ گیا یہ واقع کرمپور کے نواحی علاقہ موضع دھلو میں‌پیش آیا عوام کی جانب سے ASIملک اظہر کو تشدد کا نشانہ بنایا تشدد بنانے والوں کو یہ نہیں‌پتا کہ گزشتہ روز بورےوالہ کے نزدیک ڈکیتی کی واردات میں‌ڈاکووں نے مزاحمت پر سکول ٹیچر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا اور پولیس تھانہ فتح شاہ کو کال کی گئی تو وہ دو گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی جس کا لواحقین کو انتہائی رنج ہوا اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا تو فوری پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے تین سو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اگر ASIملک اظہر پر تشدد کرنے والوں کو یہ پتا ہوتا کہ پولیس پر تشدد کرنے کے بعد مقدمات کا سامنہ کرنا پڑے گا تو وہ پولیس کے اہلکارASIملک اظہر کو پورے پروٹوکول کے ساتھ تھانے پہنچاتی مگر انہیں‌شاید علم نہیں‌ہے.اسی لیے تو رات آدھی رات کو ASIملک اظہر سی نائن مقدمہ کی کارروائی کےلئے ان کے گھر پر اکیلے ہی ریڈ کرنے چلا گیا نہ کسی اہلکار کو لیا اورنہ ہی کسی اور پرسن کو پھر گھر میں‌کس طرح گھسا اور پھر اپنے کپڑے اتارےریوالور،موبائل نکالااس کو بڑی ترتیب کے ساتھ چارپائی پر سجایا اوہ ہو نہیں‌بلکہ تشدد کا نشانہ بناے والے خاون کے سسرالیوں نے پولیس اہلکار ASIملک اظہرکو کہا کہ آپ کپڑے اتار دیں اور ہم آپ پر تشدد کرنے لگے جو کہ آپ ہمارے گھر میں‌تفتیش کے لئے آئے خدا کا خوف نہیں ہے کہ اب وضاحتیں پیش کی جائیں کہ میں‌تو رات کو اکیلا ریڈ کرنے چلا گیا تھا اور مجھے انہوں نےدھوکے سے بلایا کہ آپ آ جاو اور کلثوم بی بی کے شوہر کی تفتیش کرو مگر کلثوم بی بی کے سسرالیوں اور شوہر کا کوئی اور پلان تھا جس کا مصوف ASIملک اظہرکو بالکل خبر نہیں‌تھی پتہ نہیں‌کب تک پولیس اپنے ان اہلکاروں کوپروٹیکٹ کرتی رہے گی ہاں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ روز پٹرولنگ پولیس پر الزام لگانے والی خاتون تو پیشہ ور تھی اور کنواری نہ تھی مگر یہ شادی شدہ خاتوں تو پیشہ ور نہیں‌ہے اور نہ ہی اس کے کسی بھائی،باپ یاشوہر پر مقدمات درج ہیں‌ اور اگر ہے بھی تو رات کو اکیلے میں کون سی تفتیش ہوتی ہے تو وہاں عوام بھڑکی ہوئی تھی اور یہ عوامی کارروائی تھی جس کے ذمہ دار پولیس اہلکار ہے اگر پٹرولنگ پولیس کی غیر کنواری لڑکی کے ساتھ ہونے والے واقعے کی تحقیقات غیر جانب درانہ انداز سے کی ہوتی تو یہ واقع کبھی بھی پیش نہ آتا مگر میرے خیال میں‌پولیس کو چاہیے کہ وہ اس واقعہ میں‌ پولیس اہلکار کو سابقہ واقعے کی طرح‌اس میں‌بھی پروٹیکٹ کرے مجھے لگتا ہے کہ پولیس کی اخلاقی تربیت ضروری ہے یہاں‌ایک بات کا اضافہ میں‌کرتا چلوں‌کہ پولیس کی بھاری نفری سکولوں اور کالجوں کے گیٹس پر تعینات ہوتی ہے وہ حالات کو کنٹرول کرنے کےلئے نہیں‌بلکہ اپنی جنسی، دماغی تسکین اور تانکا جھانکی کے لئے وہاں‌اکٹھی ہوتی ہے کےلئے ذرائع کے مطابق کلثوم بی بی نے آر ایچ سی کرم پور میڈیکل کروا لیا ہے ڈی ایس پی میلسی ملک اعجاز موقع پر پہنچ گئے.ابھی بھی پولیس اہلکار ڈی پی او وہاڑی سے اپیل کر رہاہے کہ میں‌بے گناہ ہوں مجھے دھوکے سے بلایا گیا ہے جبکہ وہاڑی پولیس کے سربراہان نے خاموشی سے تمام اہلکار جو کسی بھی کارروائی کا سامنا کر رہے تھے ان کو ناصرف بحال کیا بلکہ ان کے حوصلے بھی بڑھائے خدا را ایسا رویہ انارکی پھیلانے کےلئے کافی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here