وہاڑی:وہاڑی سے سیاسی و غیر سیاسی افراد نے تیز گام حادثے افسوس کااظہارکیا

رپورٹ۔حافظ عبدالمالک
وہاڑی:مسلم لیگ ن کے ایم پی اے میاں محمد ثاقب خورشید،سابق چیئر مین بلدیہ نادرعلی بھٹی،چیئرمین مرکزی انجمن تاجران چودھری محمدسرور،صدر ارشاد حسین بھٹی،جنرل سیکرٹری راؤخلیل احمد ،ضلعی امیرجماعت اسلامی سید جاویدحسین شاہ ،جنرل سیکرٹری عبدالخاق شاکر،چیئرمین انجمن آڑھتیان چودھری اشفاق حسین ہنجراء،صدرچودھری مشتاق گوجر،جنرل سیکرٹری چودھری نعیم وڑائچ نے تیزگام ایکسپریس کے سانحہ پرافسوس کااظہارکرتے ہوئے بوگیوں میں آگ لگنے سے بڑی تعداد میں ہلاکتوں اورزخمیوں پر گہرے رنج والم کا اظہار بھی کیااوراسے ریلوے کی تاریخ کابہت بڑاسانحہ قراردیاہے ان کاکہناہے کہ آگ لگنے کایہ افسوس ناک واقعہ سلنڈرپھٹنے یا شارٹ سرکٹ سے ہوا ہے دونوں صورتوں میں وفاقی وزیرریلوے سمیت متعلقہ ریلوے حکام کے خلاف بڑا ایکشن ہونا چاہیے وزیرریلوے شیخ رشیدمیں تھوڑی سی بھی اخلاقی جرات ہےتومستعفی ہوکر مثال قائم کرے ان کاکہناتھاکہ شیخ رشیدکی ویسے بھی توجہ ریلوے کے امور پر کم سیاسی بیانات اور پریس کانفرنسزپرزیادہ ہے اس طرح وزیر اعظم عمران خان کواپنے اپوزیشن دور کی باتیں یادہیں تو وہ مداخلت کرکے ذمہ داروں کو قرار وقعی سزا دلوائیں۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں ایم این اے طاہر اقبال چودھری،ایم پی اے رائے ظہورکھرل،میاں نورخان بھابھہ، چودھری طاہرانورواہلہ،شیخ خرم وحید،مہرشبیرسیال،پرویز اختربھٹی اور صائمہ نورین ملک نے بھی حادثہ پرافسوس کااظہارکیاجبکہ حادثہ کواتفاقیہ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن اوردیگرکو مشورہ دیا ہے کہ سیاست چمکانے کی بجائے صرف افسوس اورورثاء سے ہمدردی تک محدود رہا جائے حکومت مکمل انکوائری کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں متاثرہ خاندانوں کے ناقابل تلافی نقصان کے ازالہ کے لیے مناسب امدادی رقم کا اعلان کیا جائے صدر ڈسٹرکٹ بار شکیل تارڑجنرل سیکرٹری علی اعجاز چودھری نے افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا اعلان کیا# ہے اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کی ہے انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں سے نہ صرف ہلاک شدگان کے لواحقین بلکہ پوری قوم پرسکتہ طاری ہوچکاہے میاں عرفان دولتانہ نے کہا کہ اس میں اگرچہ مسافروں کی غلطی کا عنصر موجودہے کہ انہوں نے چلتی ٹرین میں کھانا پکانے کیلئے گیس سلنڈر کا استعمال کیا اور اپنی اور دیگر مسافروں کی جانوں کو ہلاکت میں ڈالا تاہم ریلوے کے پاس بھی ایمرجنسی سروس موجود نہیں جو اس دور میں افسوسناک ہے اگر ریلوے کے پاس ایمر جنسی سروس ہوتی تو ہلاکتوں کی تعداد میں کمی واقع ہوسکتی تھی انہوں نے کہا کہ پوری قوم پر اس حادثے نے سکتہ طاری کر دیا ہے اور ہر شخص مرنے والوں کے سوگ میں برابرکا شریک ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here