اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاک ایران دوطرفہ تعلقات کے فروغ پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں وزیراعظم نے تجارتی، معاشی اور توانائی کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے پاک ایران بارڈر کو ‘امن اور دوستی‘ کی سرحد قرار دیا اور دونوں اطراف کی سکیورٹی بڑھانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

سرحد پر مارکیٹس کے قیام کے معاہدے پر بھی بات چیت پر وزیراعظم نے کہا کہ ان مارکیٹوں سے خطے میں روزی روٹی میں آسانی ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر ایران کی مثبت کردارکو سراہا۔

ملاقات میں افغانستان میں تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس حوالے سے وزیراعظم کا کہناتھا کہ افغانستان کے پڑوسیوں کی حیثیت سے پاکستان اور ایران کا امن اور استحکام سے براہ راست تعلق ہے، پاکستان پرامن اور مستحکم افغانستان اور پائیدار معیشت کا خواہشمند ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ افغانستان میں بین الاقوامی برادری مثبت طور پر اپنا کردار ادا کرے، افغانستان میں معاشی تباہی کو روکنے کیلئے اقدامات کرنا چاہیے۔

وزیراعظم عمران خان نے قومی مفاہمت اور جامع سیاسی تصفیے کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے صدر رئیسی کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی صدر کی دورہ پاکستان کی دعوت کو دہرایا۔

Leave a Reply