قیام پاکستان کی جدوجہد میں علما و مشائخ کا کلیدی کردار ، استحکام کیلئے بھی میدان میں نکلیں : مقررین

لاہور(خصوصی رپورٹر) پاکستان کو درپیش چیلنجز سے عہدہ برآء ہونے کی خاطر علماء و مشائخ کو ہر اول دستے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان بنانے کی تحریک میں بھی اُنہوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور آج پاکستان کی وحدت اور سالمیت کے تحفظ کے ضمن میں بھی عوام مشائخ عظام اور علمائے کرام کی طرف اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان‘ لاہور میں منعقدہ سالانہ تصوف سیمینار بعنوان ’’عصر حاضر میں علماء و مشائخ کی ذمہ داریاں‘‘ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ سیمینار نظریۂ پاکستان ٹرسٹ اور حافظ الملت فائونڈیشن کے اشتراک سے خانقاہ عالیہ قادریہ بھرچونڈی شریف کے سجادہ نشین اور پیر عبدالخالق القادری کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر پیر سید منور حسین شاہ جماعتی‘ پیر سید محمد عرفان مشہدی‘ پیر سید محمد حبیب عرفانی‘ سجاد میر‘ مفتی محمد جان نعیمی‘ پیر سید عنایت علی شاہ ‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد قمر علی زیدی‘صاحبزادہ عبدالمالک القادری‘ صاحبزادہ عبدالمطلب القادری‘ سید شفیق شاہ توکلی‘پیر سید محسن شاہ گیلانی‘ پیر دیوان احمد مسعود چشتی‘ مفتی محمد شریف سرکی‘ پیر غلام رسول اویسی‘ پیر توصیف النبی نقشبندی مجددی‘نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید اورآستانہ عالیہ بھرچونڈی شریف کے مریدین اور عقیدت مندوں نیز دیگر خانقاہوں سے وابستہ افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔ سیمینار کا آغاز تلاوت قرآن مجید‘ نعتِ رسول مقبولؐ اور قومی ترانہ سے ہوا۔ تلاوت کی سعادت قاری خان محمد نے حاصل کی جبکہ بارگاہِ رسالت مآبؐ میں گلہائے عقیدت حافظ مرغوب احمد ہمدانی نے پیش کئے۔ چیف جسٹس(ر )میاں محبوب احمد نے کہا کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر میں مختلف خانقاہوں سے وابستہ مشائخ عظام اور علمائے حق نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے لوث قیادت پر اظہار اعتماد کیا اور اپنے مریدین کو آل انڈیا مسلم لیگ کی دامے‘ درمے‘ سخنے معاونت کی ہدایت کی۔ اُنہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ ان پاکباز ہستیوں کی خدمات جلیلہ کے دل سے معترف تھے اور پاکستان کی صحیح معنوں میں ریاستِ مدینہ کی طرز پر تعمیر چاہتے تھے۔ پیر عبدالخالق القادری نے آستانۂ عالیہ بھرچونڈی شریف کے بزرگوں کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسلامیان ہند کی دنیاوی اور اخروی فلاح و بہبود کے لئے اپنے اسلاف کی مساعیٔ جلیلہ پر بڑا فخر ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد برطانوی سامراج مسلمانوں کو اپنا ازلی دشمن تصور کرتا تھا اور جب اُس نے پورے سندھ پر اپنا تسلط مضبوط بنا لیا تھا‘ تب بھی خانقاہ بھرچونڈی شریف کے بزرگوں نے بے مثال عزیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دین متین کی تبلیغ و اشاعت میں کبھی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دی۔ رہبر پاکستان محترم مجید نظامی کے وضع کردہ رہنما اصولوں پر گامزن رہتے ہوئے یہ ٹرسٹ پاکستان کا واحد ادارہ ہے جو وطن عزیز کے اسلامی نظریاتی تشخص کا علم بردار ہے۔پیر سید محمد عرفان مشہدی نے کہا کہ صوفیائے کرام انسانی قلوب کے معالج ہیں اور وہ ان پر محنت کر کے ان کی اصلاح کرتے ہیں۔ انہوں نے اندرون سندھ دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے ضمن میں خانقاہ عالیہ بھرچونڈی شریف کی خدمات کو سراہا۔پیر سید منور حسین شاہ جماعتی نے پاکستان کو عطیۂ خداوندی اور اولیائے کرام کا فیضان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کے مسلمان اپنے نبی کریمﷺ کی توہین یا ان کی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ حضرت پیر سید جماعت علی شاہ نے قائداعظمؒ کو حصول پاکستان کی جدوجہد میں بہترین وکیل قرار دیا تھا اور فتویٰ جاری کیا تھا کہ جو شخص پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دے گا‘ اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا جائے گا۔ شاہد رشید نے مقررین و حاضرین سے اظہار سپاس کرتے ہوئے کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد آزادی میں علماء و مشائخ کے کردار کو اجاگر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔انہوں نے پیر عبدالخالق القادری کی جانب سے صوبہ سندھ کے ہر علاقے میں نظریۂ پاکستان فورمز کے قیام کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ مفتی محمد جان نعیمی نے پیر عبدالخالق القادری کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رہنمائی میں خانقاہ بھرچونڈی شریف کا فیضان نہ صرف سندھ بلکہ پوری دنیا میں جاری ہے۔پیر سید محمد حبیب عرفانی نے کہا کہ پاکستان میں رائج نظام حکومت اور نظام تعلیم نے علمائے کرام کو غیر اہم بنا دیا ہے۔ آج سوشل میڈیا کے بلاگرز کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جبکہ علمائے کرام کی باتوں پر توجہ نہیں دی جاتی۔ مسلمانوں نے علم کے بل بوتے دنیا میں عروج حاصل کیا تھا‘ لہٰذا مسلمانوں کو علم کے حصول پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ پیر غلام رسول اویسی نے کہا کہ مشائخ عظام کی جدوجہد کی بدولت یہ ملک قائم ہوا مگر بعد ازاں اس کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آ گئی جن کا نہ تو اسلام سے او رنہ ہی تحریک پاکستان سے کسی قسم کا کوئی تعلق تھا۔پروفیسر ڈاکٹر قمر علی زیدی نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد علماء و مشائخ کو پاکستانی قوم کی اخلاقی تربیت کی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ ملک صوفیائے کرام کی فکر اور قائداعظمؒ و علامہ محمد اقبالؒ کی قیادت کے طفیل معرضِ وجود میں آیا تھا مگر بدقسمتی سے یہ ذمہ داری ادا نہ کی جا سکی۔سیمینار کے اختتام پر آستانۂ عالیہ پاکپتن شریف کے سجادہ نشین پیر دیوان احمد مسعود چشتی نے وطن عزیز کے استحکام اور خوشحالی کے لیے دعا کرائی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here