شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے. اسماءتنویر کا تازہ ارٹیکل

اسماء تنویر

شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے

موت زندگی، اس کی رنگینیوں، رعنائیوں اور خُوبصُورتی کے اختتام کا نہیں بلکہ لامحدود زِندگی کے آغاز کا نام ہے. ہر ذی روح نے اِس (فانی) دُنیا سے اُس (ابدی) دنیا کی طرف رختِ سفر باندھنا ہے جہاں راحت، مُسرت، سُکون یا تکلیف کا انحصار ہمارے اعمال پر ہو گا. جو لوگ زِندگی جیسی نعمت کو کسی عظیم مقصد کی خاطر قربان کر دیتے ہیں وہ حیاتِ جاوداں پا لیتے ہیں

دینِ اسلام میں اللّٰهﷻ کی راہ، اُس کی رضا کی خاطر زِندگی جیسی قیمتی نعمت کو قربان کر دینے والوں کو شہید کہا جاتا ہے یعنی وہ اپنی جان قُربان کر کے دراصل اس امر کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ زندگی رب العزت ہی کی امانت تھی، لہٰذا اسی کو یہ امانت لوٹا رہے ہیں.

مملکتِ خداداد پاکستان چونکہ قائم ہی دینِ اسلام کے نام پر ہوئی ہے، اس لئے اس مقدس اور پاک سرزمین کی حفاظت پر مامور افواجِ پاکستان کے ہر دم و ہمہ وقت تیار ہر شیر دل سپاہی کے دل میں یہ تمنا بے تاب رہتی ہیکہ کسی بھی طرح اسے مادرِ وطن پر جان قربان کر دینے کی سعادت نصیب ہو جائے. 1948ء میں کشمیر کے محاذ پر لڑی جانے والی جنگ ہو یا 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگیں ہوں یا پھر سیاچن اور کارگل جیسے دُنیا کے مُشکل ترین محاذوں پر لڑے جانے والے معرکے ہوں، افواجِِ پاکستان کے حوصلہ مند، جری اور شوقِ شہادت سے سرشار افسروں اور جوانوں نے جِس بے مثال بہادری اور جرأت سے اپنی جانیں وطن عزیز پر نثار کیں، عصر حاضر میں ان کی مثال ملنی مشکل ہے.
وہ والدین جن کے یہ جگر گوشے تھے، وہ بہن بھائی جن کا یہ مان اور اُن کی امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز تھے، وہ یار دوست جن کے ساتھ یہ بچپن میں کھیلے تھے، ان سب کیلئے یہ باعثِ فخر و اعزاز تھے. اس دھرتی کا تحفظ کرتے ہوئے ہمارے یہ بھائی بھری جوانی میں مٹی کی رِدا اوڑھ کر سو گئے،
مگر قرآن مجید کی سورہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا فرمانِ عالیشان ہیکہ

وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِىْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۗ بَلْ اَحْيَاۤءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُوْنَۙ

ترجمہ:
“اور جو اللّٰهﷻ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ نہ خیال کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں”

شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہونے والے ان مجاہدوں کو جس سج دھج اور اکرام سے خدائے بزرگ و برتر کے دربار اور بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں پیش کیا جاتا ہو گا، اس شان کا اندازہ لگانا ہمارے لئے کسی طور ممکن نہیں کہ جِس طرح اُس جہاں کے حالات اور وہاں کی کیفیت ہم سے اوجھل ہے بالکل اسی طرح وہاں کے انعام و اکرام بھی ہمارے احاطۂ ادراک سے ماورا ہیں. ہمیں بس اللّٰه رب العزت سے دعا کرنی چاہئے کہ اپنے حبیب خاتم النبین حضرت مُحَمَّد مصطفیٰﷺ کے صدقے ہمیں اُخروی زندگی میں ان شہدائے کرام کی رفاقت عطا فرما دے.

پاکستان کی تو بنیادیں ہی شہدائے کرام کے مقدس و مطہر اور پاک لہو سے سیراب ہوئی ہیں. تقریباً دس لاکھ مسلمانوں نے اس مملکتِ خداداد سے اپنی محبت کی قیمت اپنی قیمتی جانیں دے کر چکائی ہے. ان میں سے کُچھ کو تو ہندوستان سے پاکستان میں ہِجرت کے دوران راستے میں ہی شہید کر دیا گیا تھا اور پاک سرزمین کو بوسہ دینے کی آرزو میں ان کے بڑھتے قدم ہمیشہ کیلئے تھم گئے تھے. اِن شہداء کرام میں بے شمار، بزرگ، بوڑھی خواتین، عفت مآب دوشیزائیں اور شیرخوار بچے بھی شامل تھے.
یہ تمام شہدائے کرام چاہے تحریکِ پاکستان کے دوران شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے ہوں یا انہوں نے دفاعِ وطن کا مقدس فرض انجام دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہو ہمارے لئے وہ سب قابلِ تکریم ہیں کہ انہی کی قربانیوں کے صدقے ہمیں آزادی نصیب ہوئی اور ان ہی کی قربانیوں کے وسیلے سے ہماری یہ آزادی ابھی تک برقرار ہے.

ہمارے ازلی دشمن بھارت نے پاکستان کے دشمن دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے گٹھ جوڑ کر کے دہشت گردی کے جس عفریت کو ہم پر مسلط کیا، ہماری جری اور ہر دم و ہمہ وقت تیار افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں نے اس کی کمر توڑ دی ہے مگر جاں بلب ہونے کے باوجود یہ وقتاً فوقتاً بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیلتا رہتا ہے. بلوچستان اور قبائلی علاقے اِن دشمنانِ اسلام و پاکستان کا خصوصی ہدف ہیں.

ہر سال جب اُن سارے شہداء کے پُرنور چہرے آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں جو مادرِ وطن پر اپنی جانیں نچھاور کر کے حیات ابدی حاصل کر چکے ہیں. ہمارے شہداء ہماری آنکھوں میں ستاروں کی مانند ہمیشہ چمکتے دمکتے رہیں گے.
وطن عزیز کی عظیم ماؤں کے یہ لعل و گوہر مادرِ وطن کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے شہید ہوئے. اُن ماؤں کی عظمت کو سلام جنہوں نے ان کی پرورش و تربیت کی اور انہیں دھرتی ماں پر جان نثار کرنے خود اپنے ہاتھوں سے تیار کر سرحدوں پر بھیجا. انہوں نے کروڑوں پاکستانیوں کو امن و سکون سے زندگی بسر کرنے کا موقع دینے کی خاطر اپنے ہیرے جیسے جوان بیٹے وطن کی ناموس پر قربان کر دیئے.

پاکستان بنانے کی جدوجہد کے دوران یہ نعرہ زباں زدِ عام تھا:
“پاکستان کا مطلب کیا… لاالٰہ الااللہ”
یعنی یہ ملک تو بنا ہی اس لئے ہے کہ دُنیا میں خالق و مالکِ کائنات کی توحید، یکتائی، عظمت اور بڑائی کا پرچم بلند کرے پھر چاہے کفر وت شرک کی قوتوں اور عقائدِ باطلہ کے حامل لوگوں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ محسوس ہو.
نظریۂ اسلام کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والی اس مملکت خداداد کی جغرافیائی سرحدوں کی نگہبانی پر مامور پاکستانی ماؤں کے یہ بہادر سپوت اور جگر گوشے ہمارے سر کا تاج اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں.
ہم اِن عظیم فرزندانِ اسلام و پاکستان کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کی قربانیوں کو اجاگر کرنا اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں.

دشمن کی بھڑکائی ہوئی دہشت گردی کی جنگ میں 70 ہزار پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں. پاکستانی نوجوانوں ت جوق در جوق پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنی چاہئے کہ اس سے بڑھ کر مقدس پیشہ کوئی اَور نہیں ہے. ملک پر جان قربان کرنے والوں اور ان کے اہل خانہ کیلئے دنیا و آخرت ہر دو جگہ اجرِ عظیم ہے.

جِس قوم میں کیپٹن محمد سرور، سوار محمد حسین، میجر طفیل محمد، میجر راجہ عزیز بھٹی، راشد منہاس، میجر شبیر شریف، کیپٹن کرنل شیر خان، میجر محمد اکرم، لانس نائیک محمد محفوظ، حوالدار لالک جان، نائیک سیف علی جنجوعہ جیسے بہادر نوجوان موجود ہوں جو وطن عزیز کی خاطر جان جیسی عظیم نعمت کی قُربانی پیش کرنے سے قبل سوچیں بھی نہ اُسے کبھی کوئی زیر نہیں کرسکتا. یہ مٹی جس میں شہیدوں کے پاک خون کی مہک رچی بسی ہے، اس کے تقدس کو کوئی مائی کا لال پامال نہیں کر سکتا. ان ببر شیروں کے ہوتے ہوئے دشمن ہمارے ملک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت ہی نہیں کر سکتا.
بہت جلد اللّٰهﷻ کے یہ شیر اور فرزندانِ اسلام و پاکستان دشمن کی لگائی دہشت گردی کی آگ کو بجھا کر دم لیں گے اور یہ مملکتِ خداداد امن و امان اور سُکون اور آرام کا گہوارہ بنے گی.

اِس مُلک کے وہ کوچے اور گلیاں جہاں ہمارے شہداء نے اپنے بچپن کے ایام بسر کئے، وہ سکول جہاں اُنہوں نے ابتدائی جماعتیں پڑھیں، وہ فضا جس میں اُنہوں نے سانس لی، وہ سرحدیں جہاں انہوں نے اپنے مُلک کی حِفاظت کا فریضہ سرانجام دیا، وہ مقدس زمین جہاں اُن کا لہو گرا اور جہاں اُنہوں نے اپنی آخری سانسیں ادا کیں، وہ سب کی سب اس امر کی گواہی دے رہی ہیں کہ
“شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے”
اور صلۂ شہادت کیا ہے؟ تب و تابِ جاودانہ

ہمارے شہداء کے والدین کے احساس تفاخر سے لبریز بیانات بھی سننے اور دیکھنے کو مِلتے ہیں جِن سے وہ اپنی عظیم سپوتوں اور جگر گوشوں کی وطنِ عزیز کی خاطر قُربانی پر خدائے بزرگ و برتر کا شکر ادا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اُن کے جگر گوشوں نے شہادت کا اعلیٰ اعزاز حاصل کیا ہے.
؎
اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو
تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں

اسماءتنویر

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here