شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے عرس کی تقریبات کا آغاز،بھٹائی سندھ کے صرف صوفی بزرگ یا صرف اولیا نہیں بلکہ بھٹائی سندھ کے شعور ،وطن دوستی اور اناسن دوستی کے عظیم پیامبرہیں

شاہ عبد اللطیف بھٹائی کا آج بھٹ شاہ میں میلہ ہے،بھٹائی سندھ کے صرف صوفی بزرگ یا صرف اولیا نہیں بلکہ بھٹائی سندھ کے شعور ،وطن دوستی اور اناسن دوستی کے عظیم پیامبر ہیں۔تین سو برس قبل شاہ لطیف نے کہا تھا کہ

سائیں سدائیں کریں متھے سندھ سکار
دوست مٹھا دلدار عالم سبھ آباد کریں۔
ترجمہ:مولا سائیں سندھ کو ہمیشہ سر سبز اور خوشحال رکھ اور میرے دوست دلدار اس کے ساتھ پورے عالم آباد رکھ۔
شاہ عبد اللطیف بھٹائی کی انسان دوستی اور ترقی پسندیت کا اندازہ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ ان کی شاعری کے سات بڑے سروں کے کردار یا ہیروز خواتین ہیں؛
شاہ کی شاعری کے سات سر۔۔۔۔۔۔۔۔
سسئی ؛؛جدوجہد اور وفا کی علامت جو بھنبھور سے کیچ تک پیدل جاتی ہے۔
ماروی ۔۔سرزمین سندھ سے وطن دوستی کی عظیم مثال جسے عمر بادشاہ جھکا نہیں سکا ۔
سوہنی :دریا کے دہشت کے سامنے بہادری کے ساتھ اپنی محبت کی حاصلات کی خاطر خود کو لہروں کی سپرد کرتی ہے اور ہر حال میں دریا پار کرتی ہے۔
لیلا ۔لیلی نے کبھی جھکنا نہیں سیکھا ۔M.shabir.kk

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here