دو متحارب ٹرانسپورٹرز گروپوں کے درمیان لڑائی نے تین بے گناہ افراد کی جان لے لی

مہراعجاز بورے والا کے قلم سے نکلی ہوئی تحریر
تحصیل بورے والہ میں دو متحارب ٹرانسپورٹرز گروپوں کے درمیان لڑائی نے تین بے گناہ افراد کی جان لے لی اور تحصیل بورے والہ کے دو افسران نے ناتجربہ کار ی کی بنا پر تحصیل بورے والا کی عوام کو اس خونی لڑائی میں کس طرح جھو نک ڈالا پڑھیے
ہمارے اس معاشرہ میں دن بدن دولت کی ہوس بڑھتی جارہی ہے اور دولت کے پجاری بھی انسانی جانوں سے نت نئے طریقوں سے کھیل کر دولت حاصل کرنے میں فخرمحسوس کر رہے ہیں اور آئے روز سینکڑوں ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں جن میں انسانی جانوں کا ضیاع تیزی کے ساتھ ہو رہا ہے ان واقعات میں کبھی بجلی کے شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ سے انسانی زندگی کی سانس ٹوٹ رہی ہیں تو کبھی روڑ ایکسیڈنٹ میں انسانی جانوں کا ضیائع ہو رہا ہے اور کبھی اندھی گولی راہ چلتے افراد کے لیے پیغام اجل لیکر آجاتی ہے تحصیل بور ے والہ جنوبی پنجاب کی ایک بہت بڑی تحصیل ہے اور یہاں پر عوام کو سفری سہولیات مہیا کرنے کے لیے ایک عد د سرکاری بس اسٹینڈ موجود ہے مگر اس بس اسٹینڈ میں حکومت کی طرف سے کوئی بھی بس سروس موجود نہ ہے لہٰذا عوام کا سارا دارومدار امدو رفت کے لیے پرائیویٹ ٹرانسپورٹ پر ہی ہے اور بورے والہ کے شہریوں پر ظلم یہ ہے کہ بس اور ویگنوں کے اڈے بورے والا شہر کے بیچوں بیچ سے گزرنے والی دورویہ سڑک پر موجود ہیں اور یہ بسوں ویگنوں کے پرائیویٹ اڈے صوبائی گورنمنٹ سے رجسٹرڈ شدہ بھی ہیں مگر جس شرائط پر اور قانون و ضوابط کے مطابق ان پرائیویٹ بسوں ویگنوں کے اڈوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے یہ پرائیویٹ اڈے ان قوانین کی بڑے دھڑلے کے ساتھ انتظامیہ کی عین ناک کے نیچے قانون شکنی کر کے دھجیاں اڑا رہے ہیں اور یہ پرائیویٹ ویگنوں کے اسٹینڈ رجسٹرڈ تو چند ایک بسوں اور ویگنوں کے نام پر ہوتے ہیں مگر ان ویگن اڈوں کے مالکان سیکرٹری آر ٹی کی ملی بھگت کے ساتھ نان رجسٹرڈ اے سی بسوں اور اے سی ویگنوں کے علاوہ نان اے سی بس اور ویگنیں بھی مختلف شہروں کو چلار ہے ہیں ان پرائیویٹ اڈوں کی خاص بات یہ ہے کہ بورے والا شہر کے ان اڈا مالکان کے پاس بس یا ویگن کھڑی کرنے کی جگہ ہی نہ ہے اور نیچے سے لیکر اوپر تک ٹریفک پولیس کے علاوہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے عملہ کو نوٹوں کی چمک اور منتھلی نے اندھا کر رکھا ہے اور جس کی وجہ سے یہ بسیں اور ویگنیں اسٹینڈ کے اندر کھڑی ہونے کی بجائے سڑکوں پر مسافروں کو لوڈنگ اور ان لوڈنگ کرتی ہیں اور انہیں کہ وجہ سے شہر کے اندر ٹریفک سارا سارا دن بلاک رہتی ہے جس کی وجہ یہاں سے گزرنے والے شہری بھی ذہنی کوفت کا شکار ہو چکے ہیں اور انہیں سڑکوں پر قائم اڈوں کی وجہ سے ہفتہ رفتہ تحصیل بورے والا میں تین افراد دو متحارب ٹرانسپورٹرز گروپوں کی آپسی فائرنگ کے نتیجہ میں اندھی گولی کا شکار ہو کی جان کی بازی ہار گئے نام سے تو رجسٹر ڈ مگرسڑک پر قائم ان اڈوں میں آئے روز بسیں اور ویگنیں کھڑی کرنے کے تنازعہ پر لڑائی جھگڑا اور فائرنگ معمولی بات سمجھی جاتی ہے اور انہیں اڈوں کے ملازمین کی طرف سے خوف و ہراس پھیلانا بھی آئے روز کا معمول بن چکا ہے اور مال مفت حاصل کرنے کی لیے ان اڈا مالکان کی آئے روز سر توڑ کوششیں بھی جاری و ساری رہتی ہیں اور نوٹوں کی چمک کے آگے انتظامیہ بھی خواب خرگوش کے مزے لیتی رہتی ہے تین افراد کی ہلاکت اور سات سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ کچھ یوں شروع ہوتا ہے کہ بورے والا کے معروف سیاسی گھرانے سابق ایم این اے چوہدری قربان علی چوہان نے اپنی ذاتی جگہ پر چوہان کوچز کے نام سے چند ما ہ قبل ہی بس ویگن اسٹینڈ رجسٹرکروایا تھا اور چوہان فیملی کے علاوہ باقی تمام اڈے بھی موجودہ اور سابقہ
سیاستدانوں کے ہی ہیں چوہان کو چز کے سامنے سومی گجر نامی بندے نے بھی عرصہ دراز سے سٹرک پر ہی ویگن اسٹینڈ بنایا ہوا تھا اور چونکہ آمنے سامنے ویگنوں بسوں کے اڈے بن گئے تو ان دونوں اڈا مالکان کے درمیان بھی مسافروں کو اپنی اپنی بسوں اور ویگنوں میں بٹھانے بس اور ویگن بھر کر دوسرے شہروں کو بھیجنے کی آپس میں ٹھن گئی اور جو مسافر اگر ایک اڈے پر دوسرے شہرمیں سفرکرنے کے لیے ویگن میں سوار ہونے کے لیے جاتا تو دوسری طرف کے اڈے کے ملازمین اس مسافر کو آوازیں دینے لگ جاتے اور یہاں تک ہی نہیں بلکہ مسافروں کو زبردستی چھیننے کی ایک دوسرے سے کوششیں بھی کی جاتی رہیں رجسٹرڈ اڈہ کے مالکان کی طرف سے دوسرے ان رجسٹرڈ ٹرانسپورٹر کے خلاف کئی بار تحریری شکایت بھی درج کروائی گئی مگر انتظامیہ سوتی رہی اور ویسے بھی ٹرانسپورٹری میں بدمعاشی اور لڑائی جھگڑے تو معمول کی بات سمجھی جاتی ہے بہر حال انہیں دو متحارب ٹرانسپورٹرز گروپوں چوہان اور سومی گروپ کے مابین لاری اڈا کے ساتھ ہی چیچہ وطنی روڑ پر واقع بس ویگن اسٹینڈ پر بسیں کھڑی کرنے پر وقوعہ والے روز دن گیارہ بجے کے لگ بھگ دونوں گروپوں میں جھگڑا شروع ہوگیا جس میں مکوں او گھونسوں کا آزادنہ استعمال کیا گیا اور تمام علاقہ میدان جنگ کا منظر نامہ پیش کرنے لگا اور بورے والہ سے نکلنے والے تمام روڈزچیچہ وطنی روڈ لاہور روڈ ملتان روڈ پر ایک دہشت کی فضا قائم ہو گی اور دیکھتے ہی دیکھتے حالات نہایت ہی سنگین شکل اختیار کرگئے شہری اور مسافر بھی خوفزدہ ہو گئے مگر اس جھگڑے کی فضا کی سنگینی کو نہ تو اسسٹنٹ کمشنر مہر خالد سنپال نے نہ محسوس کیا اور نہ ہی اے ایس پی آصف رضا نے پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا استعمال اطلاع ملنے کے باوجود کیا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ دونوں تحصیل آفسران واقعے کی اطلاح ملتے ہی تما م حالات کو کنٹرول میں کر لیتے مگر اسسٹنٹ کمشنر مہر خالد سنپال جن کے ذمہ تمام انتظامی امور آتے ہیں اور اے ایس پی محمد آصف رضا جن کے ذمہ امن و امان کو قائم رکھنے کے علاوہ ان تمام عناصر کو گرفتار کر کے پاپند سلاسل کرنا بھی ہوتا ہے جو قانون شکنی کرتے ہیں مگر شاید ان دونوں تحصیل کے آفسران نے صرف پڑھنے لکھنے پر سارا زور دیا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اس ٹرانسپورٹرز کے متحارب گروپوں کے ابتدائی لڑائی کے معاملے کو بھانپ نہ سکے اور انہیں دونوں تحصیل آفسران کی نااہلی کی وجہ سے یہ گھونسوں اور مکوں کی سڑک پرعوام کے سامنے شروع ہونے والی لڑائی آگئے چل کر تین بے گناہ افراد کی جان لئے گئی اور سات سے زائد مسافروں کو عمر بھر کے لیے معذور کر گئی بہر حال خطرہ کو محسوس کرنا اور حالات کو کنٹرول کرنا بھی عام انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی ان دونوں متحارب گروپوں کی شروع ہونے والے لڑائی بالا آخر خون کی ہولی میں بدل گئی اس لڑائی کے چند گھنٹوں کے بعد دونوں گروپوں کے آتشیں اسلحہ سے مسلح افراد آمنے سامنے آگئے اور ایک دوسرے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اس فائرنگ کی گھن گھرج اور آواز سے سارا شہر لرز اٹھا اور خونی لڑائی کی خبر شہر بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی مگر لڑائی ہونے والی جگہ سے صرف چند سو فٹ تھانہ صدر کی پولیس بھی ٹس سے مس نہ ہوئی اور حالات کی سنگینی کو جانتے ہوئے آنکھیں بند کر کے انہونی ہونے کا انتظار کر تی رہی حالانکہ فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک چلتارہا اس فائرنگ کی زد میں آکر 431ای بی کا رہائشی 50سالہ شخص غلام مصطفی بستی عیسائیاں والی کا نوجوان سلطان مسیح موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ وہاں سے گزرنے والا غریب رکشہ ڈرائیور اویس ولد شوکت سکنہ مجاہد کالونی شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں نشتر ہسپتال ملتان لے جاتے ہوئے راستہ میں ہی دم توڑ گیا اور ایک مسافر خاتون کے علاوہ چھ راہگیر بھی زخمی ہو گئے جبکہ تمام ملزمان فائرنگ کر تے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے اور پولیس حسب روایت ایک گھنٹہ تاخیر سے پہنچی لیکن اس وقت تک مرنے والے افراد کے ورثاءنے مین چیچہ وطنی روڈ بھی ٹائر جلا کر بند کر دیا اور احتجاج شروع کر دیا بعد ازاں عوامی پریشر بڑھنے پر پولیس نے مقدمات درج کر کے چوہان کوچز کے اڈے کو سیل کرکے اس ملحقہ سرکاری اڈا کو بھی تمام قسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا جبکہ سومی گجر کے سڑک پر موجود اڈا کے خلاف کیا کارروائی ہو سکتی تھی اب تاحال بھی چوہان کوچز کا اڈہ سیل ہے اور سرکاری اڈا بھی سیل ہے جس کی وجہ سے مسافر زلیل و خوار ہو کر رہ گئےاور سڑک پر موجود دوسرے بسوں کے اڈے چل رہے ہیں جو کہ مقامی انتظامیہ کی نااہلی کا ایک اورمنہ بولتا ثبوت ہے اب پولیس نے اپنی خفت مٹا نے اور قتل ہونے والے افراد کو دلاسا دینے شہریوں کو مطمئن کر نے کے لیے نان اے سی کو چز کی پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے اور کئی ایک بسیں تھانہ سٹی میں بند۔ لفظوں میں کر رکھی حالانکہ ان بسوں اور حوالات میں موجود ان ڈرائیوروں کا کوئی بھی اس خونی واقعہ سے تعلق نہ ہے اب دونوں متحارب گروپوں کے آپسی لڑائی میں اندھی گولی کا شکار ہونے والے افراد کے ورثا انکے اپنوں کا خون کس کی ہتھیلی پر تلاش کریں اور کیا بسوں ویگنوں سے بھتہ لینے والے اپنے بھتے کی خاطر بے گناہ افراد کو ایسے ہی قتل کرتے رہیں گے تحصیل بورے والا کی عوام نے کمشنر ملتان سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ دران کا تعین کر کے مجرموں کو سخت سے سزا دلانے میں اہم کردار ادا کریں تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے جبکہ مہر خالد سنپال جیسے نااہل افسر سے بھی تحصیل بورے والا کی عوام کی جان چھڑائی جائے اور آر پی او ملتان کو بھی چاہیے کہ اتنی بڑی تحصیل میں تجربہ کار آفیسرز کو تعینات کریں تاکہ جرائم میں کمی آسکے نہ کہ اے ایس پی محمد آصف رضا جیسے آفسران کو تجربہ سکھانے کے لیے تحصیل بورے والا کو تجربہ گاہ نہ بنائیں وگرنہ عوام کا پولیس پر بحال ہوتا ہوا اعتماد ان جیسے نا تجربہ کا ر افسران کی وجہ سے ختم ہی نہ ہوجائے اور کوئی اس طرح کا خونی واقعہ دوبارہ پیش نہ آسکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here