تحصیل بورے والہ کے سیاسی رنگ ۔۔۔۔ تحریر مہر اعجازاحمد ۔

تحصیل بورے والہ کے سیاسی رنگ ۔۔۔۔
تحریر مہر اعجازاحمد ۔
 ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کشمیریوں کی وکالت کامورچہ سنبھالا ہوا ہے اور وہ اس سلسلہ میں امریکہ پہنچے ہوئے ہیں جہاں پر وہ کشمیریوں اور کشمیر کے مسئلے اور اہمیت کو اجاگر کریں گئے بلاشبہ کشمیر کا مسئلہ ایک دیرینہ مسئلہ ہے اور مسئلہ کشمیر سے ہر پاکستانی کسی نہ کسی محاز پر جڑا ہوا ہے اورہرمحاذ پر پاکستان عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں اور ہر پاکستانی کا دل اپنے کشمیری بھائیوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں وزیراعظم پاکستان عمران خان کو کشمیر کے مسئلے کے ساتھ ساتھ ملک پاکستان پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں 22کروڑ پاکستان بستے ہیں اور ملک پاکستان میں ہر آنے والا دن غریب عوام کے لیے سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے اشیاءخوردونوش ہوں یا پھر بجلی ، گیس کے بل پیٹرول ہو یا پھر ڈیزل آئے روز ہی پاکستانی عوام کو ان اشیاءکے مہنگے ہونے کی خبر سننے کو ملتی ہے جس سے غریب آدمی دن بدن غربت کی لکیر سے بھی نیچے کی طرف جارہا ہے صوبہ پنجاب میں اداروں کو دیکھیں تو تبدیلی سرکار ان کو با اختیار بنانے کے دعوے کر رہی ہے مگر رزلٹ صفر سے بھی نیچے دن بدن بدن ہوتا جارہا ہے تحصیل بورے والا حکومتی افسران کے زیر نگرانی گزشتہ ایک سال سے چلتی آرہی ہے اور سیاسی آشیر باد نہ ہونے کے باوجود آفیسر شاہی آئے روز پورے عروج پر پروان چڑھ رہی ہے سارے شہر کی سڑکیں بڑے بڑے گڑھوں سے بھری پڑی ہیں کچرے کے بڑے بڑے پہاڑ جگہ جگہ نظر آ رہے اور تو اور ن لیگی تمام سیاستدان جو کہ ایم این اے اور ایم پی ایز کی سیٹوں پر عوامی مینڈیٹ کے ساتھ براجمان ہیں اس تمام گورکھ دھندے سے بے بس نظر آتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے آفیسر شاہی ہوتی تھی اس آفیسر شاہی کو کسی بھی حکومت نے اتنا بے لگام نہ ہونے دیا تھا مگر بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ن لیگی سیاستدان جو کہ عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں آئے ہیں ان کو یکسر ہی نظر انداز کر کے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور آفیسر شاہی خصوصاً ڈی سی وہاڑی عرفان علی کاٹھیا کے ہاتھ تحصیل بورے والا کی بھاگ دوڑ جب سے آئی ہے اس وقت سے ہی ڈی سی وہاڑی صرف اور صرف فوٹو سیشن اور سوشل میڈیا کے ارسطوں کے گھن چکروں میں پھنس کر داد وصول کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں اور جب ادارے اور ملازمین بے لگام ہو جائیں تو اور کوئی تنقید کرنے والا بھی نہ ہو تو ایسے میں نقصان عوام کا ہی ہو تا ہے اور بات یہی پر ختم نہ ہوتی ہے ڈی سی وہاڑی جو کہ سرکار کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ عوامی نمائندے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں انہوں نے عوام کی نمائندگی کچھ اس طرح سے کی کہ پچھلے دنوں لاہور مین روڈ پرشہر کے بیچوں بیچ گزرنے والی نہر کے پل پر ایک گڑھا پڑ گیا جو کئی دن عوام اور خبروں کی زینت بنا رہا ہے چونکہ یہ مین رستہ ہے مگر صد افسوس تمام افسران پر جو یہاں سے روزانہ کی بنیاد پر گزرتے ہیں مگر کسی کو بھی اس کو درست کرنے کا خیال تک نہ آیا آخر کار سوشل میڈیا کے ارسطوں کے کہنے پر اس گڑھے کو ڈی سی وہاری نے مرمت کروا دیا جیسے کوئی بہت بڑا قلعہ فتح کرلیا ہو اور سوشل میڈیا پر خوب داد وصول کی شاید ڈی سی وہاڑی سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کی آواز زیادہ سنتے ہیں لیکن ان کو شاید پتہ نہ ہو کہ عام عوام کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے قیمتی موبائیل نہ ہیں اور اس کے علاؤہ بھی سارے شہر کی سڑکیں ڈی سی وہاڑی کا انتظار کر رہی ہیں جہاں پر بڑھے بڑھے گڑھے عوام کی گاڑیوں کا کھٹارا کر چکے ہیں سارے سرکاری محکموں میں بھی سیاسی اثرورسوخ ختم ہوتے ہیں افسران کے من پسند افراد کی چاندی ہو گئی ہے ناجائز منافع خور اورذخیرہ اندوزوں سے لیکر ملاوٹ و دیگر قبضہ گروپ ناجائز تجاوزات کا عفریت منہ کھو لئے عوام کو نگلنے کو تیار ہے مگر سب اچھا کی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر جاری و ساری ہے ن لیگ کے ایم این اے چوہدری فقیر احمد آرائیں ، ایم پی اے سردار خالد سردار محمود ڈوگر اور گگومنڈی سے چوہدری محمد یوسف کسیلیہ اپنے وسائل سے عوام کی داد رسی کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں مگر جب سرکاری اداروں تک کام پڑتا ہے تو وہاں پر سرکاری دفتر میں افسران اپنی من مرضی کرتے نظر آتے ہیں اب عوام کے سامنے ساری سیاسی صورتحال واضح ہوتی نظر ارہی ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے ہی ٹکٹ ہولڈر تحصیل بورے والا سے عوامی مینڈیٹ کے ساتھ جیتے تو تحصیل بورے والا کے ساتھ سوتیلی اولاد جیساسلوک نہیں ہونا تھا اور تحصیل بورے والا کی یہ ستم ظریفی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا لیکن تحصیل بورے والا سے ملحقہ ماچھیوال سے صرف ایک ایم پی اے اعجاز سلطان بندیشہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جیتے چوہدری اعجاز سلطان بندیشہ اپنے حلقہ کے لیے کھل کر ترقیاتی کام دھڑا دھڑ کروارہےہیں اور لا تعداد عوامی پراجیکٹ وہ حلقہ کی عوام کے لیے صوبہ سے لاکر دے چکے ہیں ان پرجیکٹس پر کام بھی شروع ہو چکا ہے مگر صد افسوس تحصیل بورے والا کی بھاگ دوڑ عوامی مینڈیٹ سے جیتنے والے عوامی نمائندوں کی بجائے ایک فوٹو سیشن ڈی سی کے ہاتھوں میں تبدیلی سرکار نے پکڑائی ہوئی ہے جو کہ تحصیل بورے والا کی عوام کے ساتھ سرا سر سخت نا انصافی ہے عوامی قیادت کے ہونے کے باوجود کوئی بھی عوامی کام نہ ہو رہے ہیں جو منصوبہ جات ن لیگ کی حکومت میں شروع ہوئے تھے وہ منصوبہ جات بھی ادھورے پڑے ہوئے تحصیل بورے والا کی عوام دن بدن سیوریج کے مسائل ناقص صفائی اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے ذہنی مریض تو بن رہی ہے اوپر سے اپنے آپ کو کوستے ہوئے آئندہ بلدیاتی اور جنرل الیکشن میں پی ٹی آئی کی حکومت سے نالاں نظر آتے ہوئے کچھ اور ہی سیاسی پلان بنائے بیٹھی ہے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بھی چاہیے کہ عمران خاں کے بعد اپنے صوبہ کو سنبھالتے ہوئے جہاں پر آئے دن پولیس کلچر کو تبدیل کرنے اور بات بات پر صرف پولیس کے ہی خلاف نوٹس لینے کے علاوہ بھی عوامی مسائل کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ دیں اور تحصیل بورے والا میں پاکستان تحریک انصاف نے کسی بھی سیاسی گھن چکر سے ہٹ کر اگر عوامی نمائندوں کی بجائے آفیسر شاہی کے ذریعے ہی حکومت کی بھاگ دوڑ چلانی ہے تو اسے قابل افسران کو تعینات کریں جو عوامی مسائل کو بھی سمجھتے ہوں نہ کہ فوٹو سیشن او رسوشل میڈیا کے ارسطوں کے سیاسی گھن چکر میں پھنسے ہوں وگرنہ عوام کی عدالت جب بھی لگتی ہے تو یہ فیصلے میرٹ پر کرتی ہے اور آنے والے وقت میں پاکستان تحریک انصاف کا سیاسی دھڑن تختہ ہوتا نظر آرہا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہر اعجاز احمد کالم نگار بورے والہ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here