تحصیل بورے والا کے سیاسی رنگ ۔ شاہ برادران کی کوٹھی میں داخل ہونے والے اشتہاری کی کیا حقیقت تھی اور گگو منڈی کو ٹاؤن کمیٹی کادرجہ ملنے کی ساری روداد اس تحریر میں

تحصیل بورے والا کے سیاسی رنگ ۔
شاہ برادران کی کوٹھی میں داخل ہونے والے اشتہاری کی کیا حقیقت تھی اور گگو منڈی کو ٹاؤن کمیٹی کادرجہ ملنے کی ساری روداد اس تحریر میں ۔۔
تحریر مہر اعجاز احمد ۔
ہفتہ رفتہ تحصیل بورےو الا کا ایک بہت بڑا سیاسی خاندان الزامات کی زد میں رہا اس کے ساتھ ساتھ سابقہ ایم پی اے گگو منڈی کو بھی سیاسی الزامات کا سامنا کرنا پڑا سابقہ ایم این اے سید شاہد مہدی نسیم شاہ اور موجودہ ایم این اے سید ساجد مہدی سلیم شاہ جنہوں نے ہمیشہ سے ہی صاف ستھری سیاست کی ہے اور عرصہ دراز سے تحصیل بورےو الا سمیت دوسرے حلقہ میں بھی عوامی مقبولیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ان دونوں بھائیوں شاہ برادر ن کو اس وقت عوامی حلقوں سیاسی ڈیروں اور سوشل میڈیا پر سخت تنقیدکا نشانہ بنایا گیا جب ایک اشتہاری مجرم جس کے پیچھے پولیس لگی ہوئی تھی اپنی گاڑی سمیت شاہ برادران کی کوٹھی اور دفتر میں جا گھسا اور وہاں پر گھستے ہی اپنی گاڑی چھوڑ کر کوٹھی کے وسیع و عریض رقبہ میں روپوشں ہوگیا اس اشتہاری کے پیچھے لگی ہوئی پولیس نے بھی کوٹھی کو چاروں طرف سے گھیر کر اس مجرم کو پکڑنے کی کوشش شروع کر دی اورچونکہ شاہ برادران کی کوٹھی دفتر کا مین گیٹ عوام کے لیے ہر وقت کھلا رہتا ہے تو یہ ایک عام سی بات تھی پولیس نے اس اشتہاری کو تلاش کیا مگر وہ پولیس کو چکمہ دیکر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا بعدا زاں پولیس نے اس اشتہاری مجرم کی گاڑی قبضہ میں لی اور وہاں سے روانہ ہو گئے مگر اس خبر کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر شاہ برادران کے سیاسی مخالفین نے طوفان بد تمیزی بر پا کیے رکھا اور کھل کھلا کر ان شریف النفس دونوں سیاسی بھائیوں کو اشتہاریوں کا پناہ دینے والا بنانے کی کوشش کی گئی مگر جب حقائق کا عوام کو پتہ چلا تو ہر فرد حیرت زدہ رہ گیا بعد ازاں شاہ برادران کے دست راز نعیم صابر نے اس سارے معاملے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اصل میں اشتہار مجرم جس کا نام بعد میں مون گجر معلوم ہوا ہے نے لاہور میں کسی بندہ کے ساتھ فراڈ کیا تھا جس کو پولیس تلاش کرتی ہوئی بورے والا آگئی اور پولیس کا پیچھا کرنے پر وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے کوٹھی کا کھلا گیٹ دیکھ کر اندر داخل ہو گیا اور گاڑی کھڑی کرکے وہاں سے دیکھتے ہی دیکھتے بھاگ کر دیوار پھلانگ کر فرار ہو گیا اور پولیس کے ہتھے نہ چڑھ سکا تحصیل بورےو الا میں ہمیشہ سے ہی شرافت کی سیاست کو فروغ دینے والے شاہ برادران عوام کی عدالت میں ایک مرتبہ پھر سچ سامنے آنے کے بعد سرخرو ہو گئے اور ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مخالفین کو منہ کی کھانی پڑی اور تحصیل بورےو الا کے سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی مخالف پر الزام لگانے سے پہلے ایس خبروں کی تحقیق کر لیا کریں وگرنہ منہ کی کھانی پڑ سکتی ہے اسی طرح ذرائع کے مطابق ضلع وہاڑی کی 8ٹاﺅن کمیٹیوں کی سفارشات لوکل گورنمنٹ کو وصول ہو چکی ہیں اور ان کی تمام لسٹیں متعلقہ یونین کونسلوں میں آویزاں کر دی گئیں ہیں او راعتراض فارم بھی متعلقہ دفاتر سے ملنے شروع ہو گئے ہیں اور چونکہ یہ سب کچھ نئے بلدیاتی نظام کے لیے محکمہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت عملی اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے تو اس سلسلہ میں ضلع وہاڑی میں 8ٹاﺅن کمیٹیوں میں سے تحصیل بورے والا میں سے صرف گگومنڈی کو ہی شامل کیا گیا ہے حالانکہ دیوان صاحب ساہوکا اور جملیرا کی عوام کا بھی دیرنہ مطالبہ تھا کہ ان بڑے دیہی مراکز کو بھی ٹاﺅن کمیٹی کا درجہ ملنا چاہیے تھا مگر نا معلوم وجوہات کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا گگومندی کو ٹاﺅں کمیٹی کا درجہ ملنے کے خبر کے بعد وہاں کی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی گگو منڈی کے ٹاﺅن کمیٹی کی حدود میں چک نمبر 186,187,247,225,ای بی دیہات اور ان کی اضافی آبادی کو شامل کرنے کی اطلاعات ہیں لیکن یہ خبر بھی گردش کرنے لگ گئی کہ منظوری کے وقت موجودہ ن لیگی ایم پی اے چوہدری محمد یوسف کسیلیہ کے گاﺅں کی اضافی ابادی محمد پورہ کو ٹاؤن کمیٹی حدود میں شامل نہ کیا گیا اس ابادی کی عوام جو امیدلگائے بیٹھی تھی کہ ان کو بھی ٹاون کمیٹی کی حدود میں شامل کر لیا جائے گا اور ٹاؤن کمیٹی کی تمام سہولیات اس ابادی کو بھی میسر آسکیں گئیں مگر اس طرح نہ ہونے پر یہاں کی ابادی نےسیاسی آشیر باد کے بل بوتے پر احتجاج کرتے ہوئے گگو منڈی میں سے گزرنے والی مین لاہور روڈ بند کرکے بھر پور احتجاج کیا حالانہ گورنمنٹ کی طرف سے اعتراض فارم گذشتہ روز تک مل رہے تھے جو کہ 17اکتوبر تک تمام عوامی تجاویز اور اعتراضات کے ساتھ کمشنر ملتان کو اے سی بورے والہ کے دفتر سے ارسال ہونگے اور حتمی لست 2نومبر کو آویزاں کی جانے کی اطلاعات ہیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہاں کی عوام اے سی بورے والہ کے دفتر رجوع کرتی مگر یہاں پر عوام اپنے مطالبات روڈ بلاک کر کے منوانا جانتی ہے جو کہ سراسر ہی قانون کو ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے اس روڈ بلاک کو جو عوام نے کیا SHO تھانہ گگومنڈی نے مذاکرات کے بعد کھلوادیا حالانکہ ایک تھانے کے SHOکے پاس ایسے کوئی اختیارات نہ ہیں کہ وہ محمد پورہ کو ٹاﺅن کمیٹی میں شامل کر واسکے بہر حال عوام کو تو تسلی چاہیے ہوتی ہے چاہے وہ جھوٹی ہی کیوں نہ ہو اور ایسی ہی جھوٹی تسلیوں پر عوام نسل در نسل سیاستدانوں کو اپنے اوپر مسلط کیے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے عوامی مسائل بھی جوں کہ توں نسل در نسل چلے آرہے ہیں یہاں پر یہ یادر ہے کہ ن لیگی ایم پی اے چوہدری محمد یوسف کسیلیہ نے سابقہ ایم پی اے گگومنڈی پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے 225ای بی کی اضافی آبادی محمد پورہ کو ٹاﺅن کمیٹی کی حدود میں شامل نہیں ہونے دیا اور اس پہلے چوہدری محمد یوسف کسیلیہ نے گگو منڈی کو تحصیل درجہ دلوانے کی کوشش کیں اور تحصیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کروایا مگر ان کی یہ کوشش کا میاب نہ ہوسکی اب گگو منڈی کو ٹاﺅن کمیٹی کا درجہ ملنے جارہا ہے جو کہ گگو منڈی کی عوام کے لیے ایک خوش آئین با ت ہے اور ایک خبر کے مطابق تحصیل بورے والا کی بلدیہ کو میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے اس سے پہلے تحصیل بورےو الا کی بلدیہ کو میونسپل کمیٹی کا درجہ حاصل ہے اور اب میونسپل کارپوریشن کا درجہ دینے کی تجویز زیر غور ہے موجودہ حکومت جس طرح عوام سے وعدے کر کے اقتدار میں آئی ہے اگر ان وعدوں کی تکمیل جلد ممکن نہ ہو سکی تو عوام میں سخت مایوسی پھیلنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کے زیادہ دیر تک چلنے کی امیدبھی ختم ہو سکتی ہے #
مہر اعجاز احمد کالم نگار بورے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here