تحصیل بورے والا کے سیاسی رنگ ۔۔

تحصیل بورے والا کے سیاسی رنگ ۔۔
تحریر مہر اعجاز احمد ۔۔
ایک خبر کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی تمام صوبائی تنظیمں تحلیل ہو چکی ہیں اور کور کمیٹی اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی باقاعدہ منظوری سے باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری ہو چکا ہے اور یہ نوٹیفیکیشن مرکزی سیکرٹری جنرل عامر محمودکیانی کی جانب سے جاری کیا گیا اور صوبائی ڈھانچے کی تحلیل کے ساتھ ہی ملک بھرمیں ریجنز کی تشکیل کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے اور اسی نوٹیفیکیشن کے مطابق صوبہ پنجاب کو شمال مرکزی مغربی اور جنوبی ریجنز میں تقیسم کر دیا گیا ہے اس خبر اور نوٹیفیکیشن کے جاری ہونے کے بعد یہ بات تحصیل بورے والا میں واضح ہوتی دیکھائی دے رہی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے ہمیشہ سے ہی ورکروں اور کارکنان کی ہی بات کی اور ان کو ہی اصل پارٹی کا سرمایہ بتایا ہے اب ریجنز میں اور نئی بننے والی تنظیموں میں ورکروں اور کارکان کو ان کا جائز مقام بھی ملتا دیکھائی دے رہا ہے جو کہ پارٹی کے اندر دیرینہ کارکنان اور ورکروں کے لیے خوش آئین بات ہے دیرینہ کارکنان کشف العارفین غوری چوہدری اعجاز اسلم ، سفیان خان سلدیرا ، حاجی شہباز احمد باجا بھٹی ، چوہدری شکیل حشمت غلام مصطفی بھٹی سمیت دوسرے کارکنان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر میں کبھی بھی اپنے کارکنان کو فراموش نہیں کیا ہے تو اب ہم یہ امید کررہے ہیں کہ بورے والا میں بھی ان نئی بننے والی تنظیموں اور ریجنز میں تحصیل بورے والا کے پارٹی پر جان نچھاورکرنے والے ورکروں اور کارکنان کو فراموش نہیں کیا جائے گا دوسری طرف جب سے نئے بلدیاتی سیٹ اپ کو تشکیل دینے کا تاریخ کا باقاعدہ اعلان الیکشن کمیشن کی طرف سے کیا گیا ہے اسی وقت تحصیل بورے والا میں کئی ایک امیدواران کی امیدوں پر اوس پڑچکی ہے اسکی بنیادی وجہ تعلیم کا معیار اور حد بندی ہے جبکہ ان امیدواران جن کے پاس پیسہ تو ہے اور وہ اپنے علاقے میں سیاستدان بھی ہیں مگر ان کے پاس تعلیم کی کمی ہے یا پھر ان پڑھ ہیں جبکہ الیکشن کمیشن نے نئے بلدیاتی نظام میں ضلع ناظم کی تعلیم ایم اے یونین کونسل ناظم کی تعلیم بی اے یونین کونسل نائب ناظم کی تعلیم ایف اے اور کونسلر کو تعلیم میٹرک پاس رکھی ہے اور اس الیکشن میں بہت بڑا تعلیمی سیٹ اپ پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے آرٹیکل 62ون ایف کے تحت اس امیدوار کو عمر بھر کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے گا جو کاغزات میں ردو بدل کرے گا اور یہ بھی اطلاع ہے کہ بلدیاتی الیکشن 25جنوری 2020کو متوقع ہیں الیکشن کمیشن کے اس نوٹیفکیشن کے بعد نئے ابھرتے ہوئے سیاستدان جو کہ اپنے آپ کو شہر بھر کا کرتا دھرتا سمجھتے ہیں ایک تو ان کے تمام خواب چکنا چور ہو چکے ہیں اور دوسرا کئی ایک امیدواران جنہوں نے کاغذات میں ردوبدل کی تھی اب 62ایف ون آرٹیکل کے واضح ہونے کے بعد سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ الیکشن لڑنے سے بہتر گھر بیٹھ کر ہی عوامی خدمت کرنا بہتر ہے اور بلاشبہ الیکشن کمیشن تعلیم کی شرط رکھ کر ایک نئے سیاسی سیٹ اپ کی بنیاد رکھنے جارہا ہے جو کہ صرف عوام کے لیے بہتر ہو گا بلکہ پارٹیوں میں بھی پڑھے لکھے نوجوانوں کو کام کرنے کا موقع ملے گا اور پڑھے لکھے تعلیم یافتہ با شعور سیاستدان جب عوام کی خدمت کا بیڑا اٹھا ئیں گے تو ترقی کے نئے دروازے عوام کے لیے کھلیں گے اور ہر کام میرٹ کی بنیاد پر ہونے سے معاشرہ اپنی درست ڈگر پر چل نکلے گا اسی طرح مشہور سیاسی و سماجی و کاروباری شخصیت ، شہزاد گجر ایڈووکیٹ نے ابھی ہفتہ رفتہ میں چوہدری محمد سرورگورنر پنجا ب کی میزبانی کی تھی اس ہفتہ میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر بہت بڑا اکٹھ اپنے گاﺅں چک نمبر 241ای بی میں کر کے چیف جسٹس لاہو رہائی کورٹ سردار محمد شیمیم خاں کو مدعو کرلیا اس پر وقار تقریب میں معاون خصوصی گورنر پنجاب سردار شہزاد ڈوگر صدر بار ملک فرقان یوسف ایڈووکیٹ چوہدری عمران ارشاد آرائیں ایڈووکیٹ میاں فرحان سبجانی ملک صابر اعوان سردار فاروق ڈوگر ڈی پی او وہاڑی ثاقب سلطان اے سی بورے والا رانا اورنگزیب نے تقریب میں شمولیت کر کے تقریب کو چارچاند لگا دیے شہزاد گجر ایڈووکیٹ جس طرح سے تقریبات منعقد کر کے سیاسی حلقوں میں ہل چل مچا رہے ہیں اس پتہ چل رہا ہے کہ شہزاد گجر ایڈووکیٹ آنے والے وقت میں کوئی بھی بڑا سیاسی دھماکہ کر سکتے ہیں۔۔۔
مہر اعجاز احمد کالم نگار بورے والا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here