بہاولپور میں منعقد کیا گیا پنجاب کابینہ کا پہلا اجلاس

صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پنجاب کابینہ کا اجلاس جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور میں منعقد کیا گیا جس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب سمیت معاون خصوصی، چیف سیکریٹری اور انتظامیہ سیکریٹری و دیگر حکام نے شرکت کی۔
پنجاب کابینہ نے جنوبی پنجاب میں منعقد کیے گئے اپنے پہلے اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے جن میں پانی، مزدور پالیسی، ڈاکٹروں کی تنخواہیں بڑھانے، ٹیچنگ ہسپتالوں پر چارجز عائد کرنا اور صوبے بھر میں معذور افراد کے 3 فیصد کوٹہ کے تحت نوکریوں پر عائد پابندی کے خاتمے کی منظوری شامل ہے۔

اجلاس میں چینی کی بر آمد پر سبسڈی کی بھی اجازت دی گئی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وزیروں، معاون خصوصی کے ہمراہ چیف سیکریٹری، انتظامی سیکریٹری و دیگر حکام پر مشتمل 46 رکنی کابینہ کمیٹی کا اسلامیہ یونیورسٹی کے اولڈ کیمپس کانفرنس ہال میں چھٹے اجلاس کی صدارت کی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ تمام حکومتی مشینری بہاولپور میں ہے تاکہ جنوبی پنجاب کی عوام کو احساس کمتری نہ ہو۔

انہوں نے اسے بہاولپور کے لیے اعزاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 70 سالوں میں پنجاب کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس لاہور کے باہر نہیں ہوا۔

جنوبی پنجاب صوبہ قائم کیے جانے، علیحدہ سیکریٹریٹ بنانے اور ترقیاتی کاموں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام معاملات بہاولپور کے سیاسی نمائندوں سے علیحدہ اجلاس میں طے کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا قیام میری ذاتی خواہش کے بجائے اتفاق رائے سے ہوگا۔

3 گھنٹے تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں عام عوام کے لیے صاف پانی کی دستیابی اور زمینی پانی نکالنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے کابینہ نے پنجاب کی پانی پالیسی کے ڈرافٹ کو منظور کیا۔

اجلاس میں پنجاب واٹر کونسل کے قیام کی بھی منظوری دی گئی جس کی صدارت وزیر اعلیٰ اور شریک صدارت وزیر آبپاشی کریں جبکہ وزیر زراعت بھی اس کے رکن ہوں گے۔

کابینہ نے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی راولپنڈی، ڈی ایچ اے اسلام آباد، بحریہ ٹاؤن، حبیب رفیق کی کی ڈھڈوچہ ڈیم راولپنڈی کی تعمیر کے لیے گرانٹ کو منظور کرلیا۔

کابینہ نے لیبر پالیسی کو بھی منظور کیا جو غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کا پی ایس ڈی ایف، ٹیوٹا اور پی وی ٹی سی کو اپنی تربیت یافتہ، نیم تربیت یافتہ اور مزدوروں کی ضروریات کے حوالے سے بتانے کا پابند بنائے گا۔

غیر ملکی کمپنیاں، جو خود سے یا سی پیک کے تحت پاکستان آئیں گی انہیں 90 فیصد پاکستانی غیر تربیت یافتہ مزدوروں کو دوسرے سال کے اختتام تک بھرتی کرنے ہوں جس کی تعداد تیسرے سال تک زیادہ سے زیادہ سے بنائی جائے گی۔

صحت اور میڈیکل کی تعلیم کے شعبے میں 4 ایجنڈے پر بحث کرتے ہوئے کابینہ نے 30 ہزار سے 35 ہزار تنخواہ والے ڈاکٹروں کی تنخواہوں کے ساتھ ساتھ دیہاتی علاقوں میں کام کرنے والے ڈاکٹروں کی تنخواہ بڑھانے کی بھی منظوری دی گئی۔ تنخواہوں میں یہ اضافہ حکومت پنجاب کو سالانہ 17 ارب روپے کا پڑے گا۔

کابینہ نے باہر سے آئے مریضوں پر لیب اور ڈائیگنوسٹک ٹیسٹ کی مد میں صارف چارجز بھی عائد کرنے کی منظوری دی۔

انہوں نے ڈی جی خان، ساہیوال اور سیالکوٹ میں 3 سال سے زائد عرصے سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے اسسٹنٹ پروفیسرز کی سروس کو بھی ریگولرائز کرنے کی منظوری دی۔

ان اسسٹنٹ پروفیسرز سے موجودہ اسٹیشن پر محدود مدت تک کام جاری رکھنے کے لیے کہا جائے گا۔

کابینہ نے سرکاری ہسپتالوں میں 279 وینٹی لیٹرز اور بنیادی آئی سی یو آلات سے لیس آئی سی یو بیڈ کی خریداری کے شرائط میں نرمی کرنے کی بھی منظوری دی۔

کابینہ نے ایڈوائزری کونسل سے جنوبی پنجاب فوریسٹ کمپنی (ایس پی ایف سی) کے قیام کے لیے وزیر اعلیٰ کو تجاویزات پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے پنجاب پاور ڈویلپمنٹ بورڈ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ 2017 حتمی منظوری کے لیے پنجاب اسمبلی میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی۔

کابینہ نے راولپنڈی ویسٹ مینیجمنٹ کمپنی کی مالی سال 18-2017 کے درمیان ادا نہ کیے گئے فنڈز کی بھی منظوری دی۔

ایک علیحدہ فیصلے میں انہوں نے سماجی فلاحی محکمے کو بی ایس 1 سے 16 تک 325 اسامیوں پر لوگوں کو بھرتی کرنے کی بھی منظوری دی۔

اجلاس میں چولستان یونیورسٹی آف ویٹیرینیری اینڈ اینیمل سائنسز، بہاولپور کے وائس چانسلر کی بھرتی کے لیے طریقہ کار کی بھی منظوری دی۔

وزیر اعلیٰ نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ پورے پنجاب کو اپنا گھر سمجھتے ہیں اور ہر ضلعی ہیڈکوارٹر میں کابینہ اجلاس منعقد کرائیں گے۔

صوبائی کابینہ کا اگلا اجلاس سرگودھا میں کیے جانے کے امکانات ہیں جس کے بعد ملتان میں اجلاس منعقد کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here