اوکاڑہ میں پولیس اہلکار بنا حیوان اور اپنی ہی سالی کو حوس کا نشانہ بنایا




وکاڑہ کے تھانہ صدر میں تعینات پولیس کانسٹیبل فیصل خوشی نے وردی کے نشے میں حیوانیت کی نئی مثال قائم کر دی منصور آباد کے رہائشی محنت کش محمد سلیم کی بیٹی نمرہ سے دوسال قبل نکاح کیا اور اپنی سالی ثناء کو ہراساں کرتے ہوئے اس کے والدین کو ناجائز مقدمات میں پھنسانے اور بہن کو طلاق دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے گورنمنٹ کالج میں زیر تعلیم طالبہ کو بلیک میل کیا اور ڈیڑھ سال تک اسے جنسی درندگی کا نشانہ بناتا رہا لڑکی کے حاملہ ہونے پر وہ والدین کے سامنے پھٹ پڑی متاثرہ لڑکی کے والد کی مدعیت میں اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دی جا چکی ہے متاثرہ خاندان نے ڈی پی او جہانزیب نزیر اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے نوٹس لینے اور با اثر پولیس کانسٹیبل کے خلاف فوری قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول نہیں ہوئی ۔جونہی موصول ہوگی فوراً کاروائی ہوگی کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے ترجمان پولیس
ڈاکٹر فرمان علی اوکاڑہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here