15 اگست کو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے کے لیے ایئرپورٹ کی جانب بھاگ رہے تھے لیکن پشاور میں مقیم ایک افغان خاندان ایسا بھی تھا جو اس افراتفری کے عالم میں افغانستان پہنچ گیا۔
’یہ طورخم سرحد کب کھلے گی؟ میں تو یہاں افغانستان آ کر پھنس گیا ہوں، واپس پاکستان نہیں جا سکتا، کوشش کریں کسی طریقے سے میں واپس پاکستان پہنچ جاؤں۔‘

یہ الفاظ ہیں پشاور سے افغانستان جانے والے اس افغان موٹر مکینک کے ہیں جو ان دنوں کابل میں پھنسے ہوئے ہیں۔
داؤد (فرضی نام) ان دنوں سخت پریشان ہیں اور ہر دوسرے روز فون کر کے صرف یہی پوچھتے ہیں کہ طورخم سرحد کب کھلے گی اور وہ کب پاکستان واپس پہنچ سکیں گے؟

لیکن میرے پاس اس کا جواب نہیں ہوتا اور میں صرف یہی کہتا ہوں کہ فی الحال سرحد بند ہے اور سختی بہت زیادہ ہے۔ اب حکومت کی پالیسی پر منحصر ہے کہ کیا فیصلہ ہوتا ہے۔

کابل میں اپنے گھرانے کے آٹھ افراد کے ساتھ موجود داؤد نے ٹیلیفون پر مجھے بتایا کہ وہ بڑی مشکل میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اگرچہ وہ افغان ہیں لیکن ان کی اور ان کے بچوں کی پیدائش تو پاکستان میں ہوئی ہے۔

داؤد نے بتایا کہ وہ ہر دو روز بعد کابل سے جلال آباد اور پھر طور خم تک کا سفر اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید سرحد کے کھلنے کا علم ہو سکے اور وہ واپس پاکستان جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ سرحد پر جا کر لوگوں کی منتیں بھی کرتے ہیں لیکن ان کی کہیں سنوائی نہیں ہو رہی۔

داؤد نے بتایا کہ افغانستان میں بے روزگاری ہے اور فی الحال وہ ایک رشتہ دار کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

’یہاں مہنگائی بھی بہت ہے، کچھ سمجھ نہیں آ رہا، کوئی کام بھی نہیں مل رہا۔ کوشش کر رہا ہوں کہ کسی طریقے سے واپس پاکستان پہنچ جاؤں۔‘

واضح رہے کہ داؤد اپنے اہلخانہ کے ساتھ اس وقت افغانستان پہنچے تھے جب طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ ملک چھوڑنے کے لیے ایئرپورٹ کی جانب بھاگ رہے تھے۔

پاکستان سے افغانستان پہنچنے والے داؤد اور افغانستان سے بچ نکلنے والوں میں جو ایک بات مشترک تھی وہ یہ کہ ان سب کی منزل ایک تھی۔۔۔ جی ہاں یہ سب لوگ یورپ یا امریکہ جانا چاہتے تھے۔

داؤد کو پشاور میں جب اس صورتحال کا علم ہوا کہ لوگ کابل سے یورپ جا رہے ہیں تو وہ افغانستان کی جانب چل پڑے۔

انھوں نے گھر جانے کی زحمت بھی نہیں کی، اپنی ورکشاپ سے ہی سارے انتظام کیے، کچھ رقم ادھار لی، گھر میں پیغام بھجوایا کے فوری طور پر سامان لے کر بس سٹینڈ پر پہنچیں اور پھر وہ اپنے بچوں سمیت افغانستان پہنچ گئے۔

داؤد اس یقین کے ساتھ افغانستان گئے تھے کہ بس اب انھیں منزل مل گئی ہے اور اسی اس لیے انھوں نے اپنی ورکشاپ بھی شاگردوں کے حوالے کر دی۔

لیکن داؤد یورپ نہیں جا سکے اور کئی دن ایئرپورٹ کے باہر انتظار میں کھڑے رہے کہ شاید ان کی قسمت بھی جاگ جائے اور وہ بھی دیگر افغانوں کے ساتھ یورپ یا امریکہ پہنچ جائیں۔

Leave a Reply